مریم نواز کے خلاف سپریم کورٹ اور لاہور ہائی کورٹ میں توہین عدالت کی درخواستیں دائر
سابق اٹارنی جنرل انور منصور خان کا کہنا ہے کہ مریم نواز نے اپنی تقریر کے ذریعے عوام کو عدلیہ کے خلاف اکسایا ، مریم نواز نے بغیر کسی ثبوت کے معزز ججز پر بھونڈے الزامات لگائے۔
لاہور ہائی کورٹ نے مریم نواز کے خلاف توہین عدالت کیس کی سماعت کل تک کے لیے ملتوی کردی ہے۔ دوسری جانب سابق اٹارنی جنرل انور منصور خان کی جانب سے مریم نواز کے خلاف چیف جسٹس عمر عطاء بندیال کو خط تحریر کیا گیا ہے۔
لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس شجاعت علی خان نے عدلیہ بارے بیان دینے پر مریم نواز کے خلاف توہین عدالت کی درخواست پر سماعت کی۔ عدالت نے درخواست گزار کو درخواست کے قابل سماعت ہونے پر دلائل دینے کی ہدایت کی۔
یہ بھی پڑھیے
پی ٹی آئی کے اسیر رہنماؤں سے متعلق رپورٹ لاہور ہائیکورٹ میں جمع
تمام تر رکاوٹوں کے باوجود پاکستان تحریک انصاف نے این اے 193 راجن پور کا میدان مارلیا
عدالت نے استفسار کیا کہ عدالت کے پاس کس طرح براہ راست توہین عدالت کی کارروائی سننے کا اختیار ہے؟
عدالت نے سوال اٹھایا کہ کیا یہ عدالت سپریم کورٹ کے جج کی توہین کے بیان پر کارروائی کا اختیار رکھتی ہے؟
لاہور ہائی کورٹ کے جج درخواست سے سوال کیا کہ کس آرڈر کی توہین ہوئی؟
عدالت نے استفسار کیا کہ کس قانون کے تحت آپ نے توہین عدالت کی درخواست دائر کی ہے؟
جس پر درخواست گزار کا کہنا تھا کہ آئین پاکستان کے آرٹیکل 204 کے تحت اعلیٰ عدالتوں کو توہین عدالت کی کارروائی کا مکمل اختیار ہے۔
عدالت نے پھر استفسار کیا کہ کن کے بارے توہین عدالت کی گئی ہے؟
درخواست گزار کا کہنا تھا کہ ورکرز کنونشن میں مریم نواز کی تقریر توہین عدالت کے زمرے میں آتی ہے ، مریم نے ججوں کو پانچ کا ٹولہ کہا۔ سرگودھا میں ورکر کنونشن میں مریم نواز نے تقریر کرتے ہوئے ججز پر الزامات لگائے۔
درخواست گزار نے موقف اختیار کیا کہ مریم نواز اور دیگر افراد نے بغیر ثبوت ججز کو سکینڈلائز کیا۔ مریم نواز کی تقریر سے پوری دنیا میں پاکستانی عدلیہ کا وقار مجروح ہوا۔ فواد چوہدری نے بھی عدلیہ کو سکینڈلائز کرنے کی کوشش کی۔ عدالت مریم نواز سمیت دیگر کے خلاف توہین عدالت کا نوٹس لیکر کارروائی کرے۔
سابق اٹارنی جنرل انور منصور خان کی جانب سے سپریم کورٹ آف پاکستان کے چیف جسٹس کو لکھے گئے خط میں عدالت کی تکریم ، ساکھ اور معزز ججز کے وقار کے تحفظ کے لیے فوری کارروائی کی استدعا کی گئی ہے۔
خط میں تحریر کیا گیا ہے کہ 23 فروری کو سرگودھا ورکرز کنونشن میں مریم نواز نے مہم کے تحت سپریم کورٹ کے معزز ججز کے خلاف گفتگو کی۔
انور منصور خان نے اپنے خط میں لکھا ہے کہ مریم نواز نے اپنی تقریر کے ذریعے عوام کو عدلیہ کے خلاف اکسایا ، مریم نواز نے بغیر کسی ثبوت کے معزز ججز پر بھونڈے الزامات لگائے۔
خط میں لکھا گیا ہے کہ مریم نواز نے انتخابات کے حوالے سے سوموٹو نوٹس کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا ، اس تنقید کا مقصد انصاف کے عمل پر اثرانداز ہونا ہے۔









