مجریہ 1973 کی بقا پاکستان کی بقا ہے، جاویدمیمن
آئین پاکستان کی گولڈن جوبلی، سندھ کی جامعات کے مابین اردو و انگریزی زبان میں تقریری مقابلے کا انعقاد
کراچی: ہائر ایجوکیشن کمیشن، پاکستان کے زیر اہتمام سندھ کی جامعات کے درمیان جامعہ این ای ڈی کے محمود عالم آڈیٹوریم میں اردو اور انگریزی زبانوں میں تقریری مقابلوں کی اختتامی تقریب منعقد کی گئی۔
ان تقریری مقابلوں میں سندھ کی 29 مختلف جامعات کے 50 سے زائد طلبا نے حصہ لیا۔ ان تقریری مقابلوں کے انعقاد کا مقصد اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین کی گولڈن جوبلی کی تقریبات منانا ہے۔
یہ بھی پڑھیے
وزیر تعلیم رانا تنویر حسین نے یونیورسٹی کے کانوکیشن سے خطاب میں گالی دیدی
ٹیکنالوجی کے میدان میں بھی جوائنٹ وینچر جاری رہے گا، ترک کونسل جزل
انچارج ہائیر ایجوکیشن کمیشن ریجنل سینٹر کراچی جاوید علی میمن نے طالب علموں کو آئین کی اہمیت سے روشناس کرایا۔ اس موقع پر جاوید میمن کا کہنا تھا کہ مجریہ 1973 کی بقا پاکستان کی بقا ہے۔
تقریری مقابلے کے ججز کو چئیر ڈیپارٹمنٹ آف لاء شہید ذوالفقار علی بھٹو یونیورسٹی آف لاء ڈاکٹر جاوید عزیز اور معروف صحافی/کمیونیکیشن مینیجر اوریک این ای ڈی یونیورسٹی فروا حسن اور دیگر نے جیتے والے طالب علموں میں شیلڈز تقسیم کرتے ہوئے آئین کی بالادستی کے لیے انفرادی کردار ادا کرنے پر زور دیا۔
انگریزی تقاریر کے مقابلے میں کراچی یونیورسٹی کی مریم زاہد نے پہلا انعام، جناح سندھ میڈیکل یونیورسٹی کی اشنا صلاح الدین نے دوسرا جب کہ بیگم نصرت بھٹو ویمن یونیورسٹی سکھر کی ماریہ بھٹو نے تیسری پوزیشن حاصل کی۔
اردو تقریری مقابلے میں گرین وچ یونیورسٹی کے سید وقار حیدر نے پہلی، محسن احمد نے دوسری اور سندھ ایگریکلچر یونیورسٹی ٹنڈوجام کی نوال عمر اور مہران یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی کے حماد نے تیسری پوزیشن اپنے نام کی۔
ان تقریری مقابلوں میں مختلف ماہرین تعلیم، صحافیوں، زندگی کے دیگر شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد اور یونیورسٹی کے طلبا نے شرکت کی۔









