پاکستان میں دہشتگردی کی کارروائیوں میں امریکی اسلحے کے استعمال کا انکشاف
آر ایف ای آر ایل کی رپورٹ کے مطابق امریکا نے افغانستان سے انخلاء کے وقت سات ارب ڈالر کا فوجی سازو سامان چھوڑا جو کہ دہشتگردوں کے ہاتھ لگا اور پاکستان میں دہشتگردی کے لیے استعمال ہو رہا ہے

بین الاقوامی جریدے نے اپنی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان سمیت دیگر دہشتگرد گروپس پاکستان کے خلاف بڑے پیمانے پر امریکی اسلحہ استعمال کررہے ہین۔
رپورٹ کے مطابق افغانستان میں امریکا کے چھوڑے گئے اسلحے سے کالعدم تحریک طالبان پاکستان سمیت دیگر دہشتگرد گروپس کی عسکری طاقت میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے ۔
یہ بھی پڑھیے
افغانستان کی مدد کے بغیر پاکستان میں دہشتگردی ختم نہیں ہوسکتی، فواد چوہدری
ریڈیو فری یورپ، ریڈیو لبرٹی (آر ایف ای آر ایل) کے مطابق کالعدم ٹی ٹی پی سمیت پاکستانی مسلح گروہوں نے افغانستان میں چھوڑے گئے امریکی ہتھیار حاصل کرنے کے بعد اپنے آپ کو مزید طاقت ور بنالیا ہے۔
امریکہ نے 2021 میں افغانستان سے افواج کا انخلاء کیا تو اس نے تقریباً 7 ارب ڈالر مالیت کا فوجی سازوسامان اور ہتھیار چھوڑے جن میں آتشیں اسلحے، مواصلاتی سامان اور یہاں تک کہ بکتر بند گاڑیاں بھی شامل تھیں۔
امریکی انخلاء کے دوران مغربی حمایت یافتہ افغان حکومت کے زوال کے بعد طالبان نے ان تمام ہتھیاروں پر قبضہ کر لیا، جس سے سخت گیر اسلام پسند گروپ کو ایک وسیع جنگی طاقت مل گئی۔
طالبان کے قبضے کے بعد بہت سا امریکی فوجی سازوسامان اور ہتھیار پاکستان میں پہنچئے گئے ہیں، سیکیورٹی حکام کے مطابق، مسلح گروہوں کے ذریعے ان کا استعمال کیا جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھیے
کالعدم تحریک طالبان کا ملک بھر میں دہشتگرد حملے کرنے کا اعلان
مبصرین کا کہنا ہے کہ امریکی ہتھیاروں کی آمد نے تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے عسکریت پسند گروپ اور نسلی بلوچ علیحدگی پسند گروپوں کی عسکری صلاحیتوں میں اضافہ کیا ہے جو پاکستان میں حکومت کے خلاف بغاوت کر رہے ہیں۔
یونائیٹڈ اسٹیٹس انسٹی ٹیوٹ آف پیس کے مطابق ان ہتھیاروں نے ایسے گروہوں کی مہلکیت میں اضافہ کیا ہے، انہوں نے کہا کہ پاکستان میں امریکی ہتھیاروں کی بلیک مارکیٹ پروان چڑھ رہی ہے۔









