ضمانت قبل از گرفتاری کے باوجود علی امین گنڈا پور کو ڈیرہ اسماعیل خان سے گرفتار کر لیا گیا
ان کی گرفتاری اس وقت عمل میں آئی جب علی امین گنڈا پور نے پشاور ہائی کورٹ ڈیرہ بینچ سامنے پیش کیا۔ اس موقع پر انہیں پانچ گھنٹے تک طویل کرایا گیا۔
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے ایک اہم رہنما اور سابق وفاقی وزیر علی امین گنڈا پور کو کئی گھنٹے تک کھڑا رکھنے کے بعد مقامی عدالت کے احاطے کے باہر سے گرفتار کر لیا گیا۔ تشویشناک امر یہ ہے کہ علی امین گنڈاپور نے ضمانت قبل از گرفتاری کروا رکھی تھی۔
ان کی گرفتاری اس وقت عمل میں آئی جب علی امین گنڈا پور نے پشاور ہائی کورٹ ڈیرہ بینچ سامنے پیش کیا۔ اس موقع پر انہیں پانچ گھنٹے تک طویل کرایا گیا۔
یہ بھی پڑھیے
حکومت نے الیکشن سے فرار کیلیے قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس بلایا ہے، عمران خان
آج کی قرارداد کا مقصد سپریم کورٹ جو مرضی کر لے ہم حکومت کرتے رہیں گے، فواد چوہدری
ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر (ڈی پی او) ڈیرہ کی قیادت میں پولیس ٹیم نے علی امین گنڈا پور کو حراست میں لیا ، اور انہیں نامعلوم مقام پر منتقل کردیا گیا۔ اہم بات یہ ہے کہ سابق وفاقی وزیر علی امین گنڈا پور گرفتاری سے قبل تقریباً پانچ گھنٹے تک ہائی کورٹ میں موجود رہے۔
سابق وفاقی وزیر علی امین گنڈاپور نے ڈی آئی خان کی مقامی عدالت میں گرفتاری دیدی pic.twitter.com/1KqfeVXMqt
— Muhammad Faheem (@MeFaheem) April 6, 2023
جمعرات کی صبح سے ہی پولیس کی بھاری نفری ہائی کورٹ کے باہر موجود تھی۔ چند منٹ بعد ان کے بھائی اور سابق صوبائی وزیر فیصل امین گنڈا پور کو بھی گرفتار کر لیا گیا۔
گرفتاری سے قبل میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے علی امین گنڈا پور کا کہنا تھا کہ میں نے تمام ایف آئی آرز میں ضمانت حاصل کرا رکھی تھی۔ انہوں نے کہا کہ پولیس کے پاس میرے خلاف کوئی وارنٹ نہیں ہے اور نہ ہی میرے خلاف کوئی ایف آئی آر درج ہے۔
انہوں نے کہا کہ انہیں پولیس نے نامعلوم ایف آئی آر کی بنیاد پر گرفتار کیا ہے۔ علی امین گنڈاپور نے کہا کہ وہ امپورٹڈ حکومت کے خلاف آخر لڑیں گے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق اسلام آباد کے تھانہ گولڑہ میں دہشتگردی ایکٹ کے تحت رہنما تحریک انصاف علی امین گنڈا پور کے خلاف مقدمہ درج کرلیا گیا جبکہ پنجاب کے شہر بھکر میں بھی پولیس نے بھی علی امین گنڈاپور کے خلاف انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کر لیا۔
پی ٹی آئی رہنما ڈاکٹر شیریں مزاری نے ٹوئٹر پر ایک ویڈیو پوسٹ کی جس میں ڈی پی او ڈیرہ اسماعیل خان کو دکھایا گیا کہ انہیں اعلیٰ حکام سے علی امین گنڈا پور کو کسی بھی قیمت پر گرفتار کرنے کے احکامات ملے ہیں۔
So DPO DIK desperate to arrest Ali Amin Gandapur even illegally! This is the fear PDM has of PTI so they are prepared to destroy civil admin, violate Constitution & Rule of Law to attack PTI ldrship & workers. Shameful role of bureaucracy sadly. pic.twitter.com/o6A3QSv5hD
— Shireen Mazari (@ShireenMazari1) April 6, 2023
ان کی گرفتاری پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے ان کی پارٹی کے چیئرمین عمران خان نے بھی یہی ویڈیو پوسٹ کی اور کہا کہ "آج پاکستان پوری طرح جنگل کے قانون کی گرفت میں ہے۔پی ڈی ایم اور اسکے سرپرست تحریک انصاف کے کارکنان اور قائدین کے تعاقب کے یک نکاتی ایجنڈے پر کاربند ہیں۔ ضمانتوں کے باوجود علی امین گنڈاپور کو گرفتار کرنے کا فیصلہ پہلےہی سےکیا گیاتھا۔مگر اس سب کےباوجود انہیں انتخابات میں شکستِ فاش کی دھول چٹائیں گے،انشاءاللہ۔”
آج پاکستان پوری طرح جنگل کے قانون کی گرفت میں ہے۔پی ڈی ایم اور اسکے سرپرست تحریک انصاف کے کارکنان اور قائدین کے تعاقب کے یک نکاتی ایجنڈے پر کاربند ہیں۔ ضمانتوں کے باوجود علی امین گنڈاپور کو گرفتار کرنے کا فیصلہ پہلےہی سےکیا گیاتھا۔مگر اس سب کےباوجود انہیں انتخابات میں شکستِ فاش… pic.twitter.com/mcISweYJgb
— Imran Khan (@ImranKhanPTI) April 6, 2023









