نواز شریف پر پریس کانفرنس میں من پسند صحافیوں کو مدعو کرنے کا الزام
سفینہ خان نامی خاتون صحافی نے الزام عائد کیا ہے کہ لیگی قائد نواز شریف اپی پریس کانفرنس میں صرف مخصوص صحافیوں پر مدعو کرکے دیگر سے امتیازی سلوک کرتے ہیں
خاتون صحافی نے پاکستان مسلم لیگ نون کے قائد سابق وزیراعظم نواز شریف پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ اپنی پریس کانفرنس میں صرف من پسند صحافیوں کو مدعو کرتے ہیں۔
سفینہ خان نامی ایک خآتون صحافی نے الزام عائد کیا ہے کہ سابق وزیراعظم نواز شریف اپنی پریس کانفرنس کیلئے چند مخصوص صحافیوں کو مدعو کرکے دیگر رپورٹرز سے امتیازی سلوک کرتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے
سماجی راطبے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں سفینہ خان نامی خاتون نے کہا کہ میاں صاحب آپ ہمیشہ چند صحافیوں کو بلا کر پریس کانفرنس کرتے ہیں، کیا یہ امتیازی سلوک نہیں ہے۔
نواز شریف صاحب اپ کسی کی ذاتی پراپرٹی نہیں ہیں، اپ ایک بڑی جماعت کے بڑے لیڈر ہونے کیساتھ ساتھ اپ Pakistan کے تین مرتبہ وزیراعظم بھی رہ چکے ہیں اس لئے آپکو باقی صحافیوں کیساتھ امتیازی سلوک روا نہیں رکھنا چاہیے !
صرف تین چینلز پر اتنی نظر کرم کیوں ؟
اپ جواب دیں یا نا دیں میں یہ… pic.twitter.com/k7Cz27rn2h— Safina Khan (@SafinaKhann) April 7, 2023
اے بی این نامی ادارے سے وابستہ سفینہ خان نے کہا کہ نوازشریف کا اسٹاف لندن میں انکی میڈیا ٹاکس میں صحافیوں کو پسند ناپسند کی بنیاد پر مدعو کرتا ہے جس کی وجہ سے ورکنگ جرنلسٹس میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔
خاتون صحافی کا کہنا تھا کہ اصل جمہوری شخص میں الطاف حسین دیکھا، کیا کمال کے حاضر دماغ ہیں ہر کسی کو ہر سوال پر لاجواب کردیتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ الطاف حسین نے کل ساڑھے تین گھنٹے پریس برفینگ دی اور ہر صحافی کے ہاتھ میں ہر وہ انفارمیشن کے پیپر تھے جس پر وہ بات کر رہے تھے۔ عرصہ بعد ایک پاکستانی سیاستدان کی اصل پریس کانفرنس کور کی۔
آصل جمہوری شخص میں الطاف حسین دیکھا
کیا کمال کے حاضر دماغ ہیں ہر کسی کو ہر سوال پر لاجواب کر دیتے
عرصہ بعد ایک پاکستانی سیاستدان کی اصل پریس کانفرنس کور کی!
الطاف حسین صاحب نے کل ساڑھے تین گھنٹے پریس برفینگ دی اور ہر صحافی کے ہاتھ میں ہر وہ انفارمیشن کے پیپر تھے جس پر وہ بات کر… pic.twitter.com/rRMMFk3AfT— Safina Khan (@SafinaKhann) April 7, 2023
سفینہ نے کہا کہ الطاف حسین بلکل بھی آہستہ آہستہ نہیں بولتے، انکے اندر مزاح کرنے کی عادت ہے جیسے میڈیا کیپچر کر کے یہ تاثر دینے کی کوشش کرتا تھا شائد وہ ٹھیک نہیں ہیں، لگتا ہے انکے متعلق جان بوجھ کر ایک پلاننگ کے تحت انکا غلط امیج بنایا گیا۔
خاتون صحافی نے کہا کہ نواز شریف نے الطاف حسین کی پریس کانفرنس کے بعد اپنے آپکو جمہوری دکھانے کے لئے باہر کھڑے صحافیوں کے ٹی وی لوگو اندر لے جانے کے لئے بندہ باہر بھیجا زیادہ تر صحافیوں نے انکار کر دیا ایک نے اپنا ٹی وی لوگو دے دیا۔
نواز شریف صاحب نے الطاف حسین صاحب کی پریس کانفرنس کے بعد اپنے آپکو جمہوری دکھانے کے لئے باہر کھڑے صحافیوں کے TV Logo اندر لے جانے کے لئے بندہ باہر بھیجا زیادہ تر صحافیوں نے انکار کر دیا ایک نے اپنا ٹی وی لوگو دے دیا
میاں صاحب اتنا فیک جمہوری بننے کی کیا ضرورت ہے ؟— Safina Khan (@SafinaKhann) April 7, 2023
دوسری جانب مسلم لیگ نون کے قائد میاں نواز شریف نے اپنے ایک ٹوئٹر پیغام میں چیف جسٹس پاکستان جسٹس عمر عطا بندیا سے فوری طور پر مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا ہے۔
نواز شریف نے اپنے آفیشل ٹوئٹر ہینڈل سے ایک پیغام میں کہا ہے کہ عدالتیں قوموں کو بحرانوں سے نکالتی ہیں نہ کہ بحرانوں میں دھکیلتی ہیں، چیف جسٹس نے نہ جانے کونسا اختیار استعمال کر کے اکثریتی فیصلے پر اقلیتی رائے مسلط کردی۔
عدالتیں قوموں کو بحرانوں سے نکالتی نہ کہ بحرانوں میں دھکیلتی ہیں۔چیف جسٹس نے نہ جانے کونسا اختیار استعمال کر کے اکثریتی فیصلے پر اقلیتی رائے مسلط کردی۔اپنے منصب اور آئین کی توہین کرتے ہوئے PTI کے ایجنڈے کو آگے بڑھانے والا چیف جسٹس مزید تباہی کرنے کے بجائے فی الفور مستعفی ہو جائے۔
— Nawaz Sharif (@NawazSharifMNS) April 7, 2023
سابق وزیراعظم نواز شریف نے مطالبہ کیا کہ اپنے منصب اور آئین کی توہین کرتے ہوئے پی ٹی آئی کے ایجنڈے کو آگے بڑھانے والا چیف جسٹس مزید تباہی کرنے کے بجائے فی الفور مستعفی ہو جائے۔









