الیکشن اخراجات بل 2023 قومی اسمبلی میں پیش، منظوری کیلئے متعلقہ قائمہ کمیٹی کو بھجوا دیا

وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار کی شعلہ بیانی کے بعد بل قومی اسمبلی کی متعلقہ قائمہ کمیٹی کو بھجوا دیا گیا جس کے بعد اجلاس جمعرات تک ملتوی کر دیا گیا۔

وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے الیکشن اخراجات سے متعلق بل قومی اسمبلی میں پیش کردیا ، کہتے ہیں فوری انتخابات کا انعقاد ملک کے مفاد میں نہیں۔ سازشی عناصر ذاتی مفاد کی خاطر ملک کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے منی بل 2023 قومی اسمبلی میں پیش کیا ، جس میں پنجاب اور خیبرپختونخوا میں انتخابات کے اخراجات کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے 

حکومت نے توشہ خانہ ریکارڈ سے متعلق لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کو چیلنج کر دیا

الیکشن فنڈز کی گھنٹی: الیکشن کمیشن کے گلے میں کابینہ ڈالے گی یا پارلیمان

واضح رہے کہ سپریم کورٹ آف پاکستان نے اپنے 4 اپریل کے فیصلے میں وفاقی حکومت کو 21 ارب روپے الیکشن کمیشن کو دینے کا حکم دیا تھا۔

ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے سابقہ حکومت پر تنقید کی اور تقریباً ہر موجودہ معاشی بدحالی کا ذمہ دار عمران خان کی حکومت کو ٹھہرایا۔

اسحاق ڈار کی شعلہ بیانی کے بعد بل قومی اسمبلی کی متعلقہ قائمہ کمیٹی کو بھجوا دیا گیا جس کے بعد اجلاس جمعرات تک ملتوی کر دیا گیا۔

 

اس سے قبل وفاقی کابینہ نے پنجاب میں انتخابات کے لیے فنڈز کی فراہمی کے معاملے میں کسی نتیجے تک پہنچنے پر ناکامی کے بعد معاملہ پارلیمنٹ کو بھجوا دیاتھا۔ وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت ہونےوالے اجلاس میں وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے بریفنگ دی۔

معاملہ پارلیمنٹ کو بھیجنے کا فیصلہ سپریم کورٹ کے 4 اپریل کے فیصلے کے تناظر میں کیا گیا ہے جس میں وزارت خزانہ کو 10 اپریل تک الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) کو دونوں صوبوں میں انتخابات کے انعقاد کے لیے فنڈز فراہم کرنے کا وقت دیا گیا تھا۔

واضح رہے کہ چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے الیکشن کمیشن کے 8 مارچ کے فیصلے خلاف پاکستان تحریک انصاف کی درخواست پر تمام فریقین کے وکلاء کے دلائل سننے کے بعد ، پنجاب میں 8 اکتوبر کو انتخابات کے الیکشن کمیشن کے فیصلے کو کالعدم قرار دیا تھا۔

فیصلے میں کہا گیا تھا کہ عدالت حکم کی تعمیل نہ ہونے کی صورت میں ’مناسب احکامات‘ جاری کر سکتی ہے۔ سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق ای سی پی کو 11 اپریل کو فنانس ڈویژن سے فنڈز کی وصولی کے بارے میں رپورٹ پیش کرنا ہے۔

متعلقہ تحاریر