حکومت نے پنجاب انتخابات کے لیے رقم نہیں دی، الیکشن کمیشن کی رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع
الیکشن کمیشن آف پاکستان نے اپنی ایک صفحے کی رپورٹ میں بتایا ہے کہ وفاق نے انتخابات کے لیے 21 ارب روپے فراہم نہیں کیے جبکہ پنجاب کی نگراں حکومت نے 75 سیکورٹی اہلکار دینے کی حامی بھری ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) کی جانب سے سپریم کورٹ آف پاکستان میں جمع کرائی گئی رپورٹ سے متعلق تفصیلات سامنے آگئی ہیں۔
تفصیلات کے الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) کی جانب سے سپریم کورٹ آف پاکستان کو ایک صفحے پر مشتمل رپورٹ جمع کرائی گئی ہے۔
ای سی پی کی رپورٹ کے مطابق وفاقی حکومت کی جانب سے ادارے کو 21 ارب روپے موصول نہیں ہوئے ہیں جبکہ پنجاب کی نگراں حکومت نے انتخابات کے لیے 75 ہزار اہلکار دینے کی حامی بھری ہے۔
یہ بھی پڑھیے
ثاقب نثار پر الزام لگانے والے مرتضیٰ علی شاہ اپنی ہی خبر سے جھوٹے ثابت ہوگئے
توہین عدالت کیس: مظفرآباد ہائیکورٹ نے وزیراعظم آزاد کشمیر کو ڈس کوالیفائی کردیا
ای سی پی کی ایک صفحے پر مشتمل رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پنجاب میں عام انتخابات کی سیکورٹی کے لیے 3 لاکھ سیکورٹی اہلکاروں کی ضرورت ہے جبکہ نگراں حکومت نے صرف 75 اہلکار دینے کی حامی بھری ہے۔
واضح رہے کہ چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے 4 اپریل کو اپنے فیصلے میں پنجاب میں عام انتخابات 14 مئی کو کرانے کا حکم دیا تھا۔
سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں وفاقی حکومت کو حکم دیا تھا کہ وہ پنجاب اور کےپی میں عام انتخابات کےلیے الیکشن کمیشن کو 10 اپریل تک 21 ارب روپے فراہم کرے گی، اور الیکشن کمیشن کو حکم دیا تھا کہ وہ اس حوالے سے کارکردگی رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کرائےگا۔
یاد رہے کہ الیکشن کمیشن کو وفاقی حکومت کی جانب سے 21 ارب روپے جاری کرنے کی کل آخری تاریخ تھی تاہم وفاق نے سپریم کورٹ کے فیصلے کو تسلیم نہ کرتے ہوئے ای سی پی کو رقم کی ادائیگی نہیں کی۔









