پنجاب کے انتخابات کے لیے فنڈز کا معاملہ: سپریم کورٹ نے سخت قانونی کارروائی کی تنبیہ کردی

چیف جسٹس آف پاکستان نے گورنر اسٹیٹ بینک ، سیکریٹری خزانہ  اور سیکریٹری الیکشن کمیشن کو بھی نوٹسز جاری کرتے ہوئے تمام تفصیلات کے ساتھ 14 اپریل کو چیمبر میں طلب کرلیا ہے۔

پنجاب میں عام انتخابات کے لیے فنڈز کی عدم فراہمی کا معاملہ ، سپریم کورٹ نے اٹارنی جنرل اور گورنر اسٹیٹ بینک کو نوٹسز جاری کر دیئے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق وفاقی حکومت کی جانب سے پنجاب کے عام انتخابات کے لیے الیکشن کمیشن کو 21 ارب روپے جاری نہ کرنے پر سپریم کورٹ آف پاکستان نے سیکریٹری خزانہ اور سیکریٹری الیکشن کمیشن کو بھی نوٹسز جاری کردیئے ہیں۔

الیکشن کمیشن کی جانب سے سپریم کورٹ میں جمع کرائی رپورٹ کے مطابق وفاقی حکومت نے ای سی پی کو فنڈز فراہم نہیں کیے۔ نوٹسز میں کہا گیا ہے کہ فنڈز کی عدم فراہمی عدالتی احکامات کی حکم عدولی ہے۔

یہ بھی پڑھیے 

صحافتی تنظیم ایمنڈ نے پیمرا کے اقدامات کو آمرانہ سوچ کی عکاسی قرار دے دیا

زمان پارک میں پولیس آپریشن: آئی جی پنجاب کی چھ صفحات پر مشتمل رپورٹ لاہور ہائیکورٹ میں جمع

چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال کی جانب سے ان چیمبر نوٹسز جاری کیے گئے ہیں۔ چیف جسٹس نے تمام فریقین کو چیمبر میں طلب کرلیا ہے۔

چیف جسٹس آف پاکستان کی جانب سے گورنر اسٹیٹ بینک اور سیکریٹری خزانہ کو جاری نوٹس میں کہا ہے کہ وہ اپنے ساتھ 14 اپریل کو دستیاب وسائل کی رپورٹ پیش ہوں۔

عدالتِ عظمیٰ نے فریقین کو نوٹسز جاری کرتے ہوئے ریمارکس دیئے ہیں کہ عدالتی احکامات کے باوجود الیکشن کمیشن کو پنجاب میں انتخابات کے لیے فنڈز کیوں نہیں جاری کیے گئے۔

عدالتِ عظمیٰ نے فریقین کو نوٹسز جاری کرتے ہوئے ریمارکس دیئے ہیں کہ عدالتی احکامات کے باوجود الیکشن کمیشن کو پنجاب میں انتخابات کے لیے فنڈز کیوں نہیں جاری کیے گئے۔

چیف جسٹس نے برہمی کا اظہار کرتے اپنے نوٹسز میں کہا ہے کہ جب سپریم کورٹ نے احکامات جاری کیےتھے تو ان پر عملدرآمد کیوں نہیں کیا گیا۔

چیف جسٹس آف پاکستان کی جانب سے جاری نوٹس میں لکھا گیا ہے کہ حکم عدولی کے نتائج بڑے واضح ہیں اور سب کو معلوم ہیں۔ معاملہ توہین عدالت کی کارروائی سے زیادہ سنگین ہے۔

متعلقہ تحاریر