سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل کے خلاف درخواستیں کل سماعت کے لیے مقرر

چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں سپریم کورٹ کا 8 رکنی لارجر بینچ کیس کی سماعت کرے گا۔ بل حالیہ دنوں میں پارلیمان کے مشترکہ اجلاس سے پاس ہوا تھا۔

سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل 2023 کے خلاف سپریم کورٹ میں دائر درخواستیں سماعت کے لیے مقرر کرلی گئی ہیں۔

تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں 8 رکنی لارجر سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل 2023 کے خلاف دائر درخواستیں پر 13 اپریل کو سماعت کرے گا۔

چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی ، جسٹس محمد علی مظہر ، جسٹس اعجاز الاحسن ، جسٹس منیب اختر ، جسٹس شاہد وحید ، جسٹس عائشہ ملک اور جسٹس سید حسن اظہر رضوی کیس کی سماعت کریں گے۔

یہ بھی پڑھیے 

پشاور:قومی اسمبلی کے تین حلقوں پر 30 اپریل کا ضمنی انتخابات کا شیڈول معطل

پنجاب کے انتخابات کے لیے فنڈز کا معاملہ: سپریم کورٹ نے سخت قانونی کارروائی کی تنبیہ کردی

سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل 2023 حالیہ دنوں میں پارلیمان سے مشترکہ طور پر پاس کرایا گیا تھا جس کے خلاف مختلف فریقین نے درخواستیں دائر کی تھیں۔

سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل 2023 کے خلاف دائر کی گئی درخواستوں میں موقف اختیار کیا ہے کہ یہ بل براہ راست عدلیہ کے معاملات میں مداخلت کے مترادف ہے۔ اس لیے اس کو کالعدم قرار دیا جائے۔

درخواستوں میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ پارلیمان کے مشترکہ اجلاس سے پاس کرایا گیا بل سپریم کورٹ اور چیف جسٹس کی پاورز کو کم کرنے کوشش ہے۔ جن حالات میں یہ بل پاس کرایا گیا ہے وہ حالات بھی بہت معنی خیز ہیں۔

واضح رہے کہ عدالتیں ماضی میں ایسے تمام قوانین کو کالعدم قرار دے چکی ہیں جو آئین سے متصادم ہوتے تھے یا پھر عدالتی معاملات میں براہ راست مداخلت تصور کیے جاتے تھے۔

ایک اہم نقطہ یہ بھی ہے کہ اگر صدر مملکت اس بل کو منظور نہیں کرتے تو یہ 21 اپریل کو خودبخود ایکٹ بن جائےگا۔ اگر یہ بل ایکٹ بن جاتا ہے تو عدالت کے پاس بھی اس کو کالعدم قرار دینے کا مارجن کم رہ جانا ہے۔ اس ایکٹ کا سب بڑا نقصان چیف جسٹس کی پاورز کو ہونا تھا کہ کیونکہ طرح چیف جسٹس کی بینچ تشکیل دینے کی پاورز ختم ہو جانا تھی۔

متعلقہ تحاریر