پاکستان ڈیفالٹ نہیں کریگا، سربراہ آئی ایم ایف: امارات کی مالی معاونت کی یقین دہانی

امید ہے کہ پاکستان اپنا موجودہ پروگرام کامیابی سے مکمل کرلے گا اور اسے سری لنکا اور گھانا جیسی صورتحال کاسامنا نہیں کرنا پڑے گا، کرسٹلینا جارجیوا: اماراتی حکام نے آئی ایم ایف کو پاکستان کیلیے ایک ارب ڈالر کی دوطرفہ امداد کی تصدیق کردی ہے، اسحاق ڈار

عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف ) کی سربراہ کرسٹیلنا جارجیوا  نے کہا ہے کہ پاکستان ڈیفالٹ تک نہیں پہنچا اور امید ہے کہ پاکستان ڈیفالٹ تک نہیں  پہنچے گا، پاکستان سری لنکا اور گھانا جیسی صورت  حال سے بچ جائے گا۔

دوسری جانب وزیرخزانہ اسحاق   نے آئی ایم ایف کی سربراہ سے ورچوئل اجلاس کے بعد کہا ہے کہ اماراتی حکام نے آئی ایم ایف کو پاکستانی ایک ارب ڈالر اعانت کی یقین دہانی کرادی  ہے۔

یہ بھی پڑھیے

اقتصادی رابطہ کمیٹی نے متعدد منصوبوں کے لیے فنڈز کی منظوری دے دی

پاکستان کے ڈیفالٹ ہونے کے خطرے سے متعلق سوال پر ایم ڈی آئی ایم ایف  نے کہاکہ  پاکستان ابھی وہاں تک نہیں پہنچا اور بہتر ہے کہ وہاں تک نہ پہنچے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان کو موسمیاتی چیلنجز کاسامنا ہے  لیکن پاکستانی حکام جو اقدامات کر رہے ہیں ان سے امید ہے کہ ہم اس پروگرام کو کامیابی سے مکمل کرلیں گے ، اس وقت ہم پاکستان کی مالی یقین دہانیوں کو یقینی بنانے پر بات کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے جن معاملات پر اتفاق رائے کیا ان پر عمل سے پروگرام مکمل کرسکتے ہیں، امید ہے کہ یہ ہم سب کی خیرسگالی سے ممکن ہوگا،پاکستان موسمیاتی تغیرات کی فرنٹ لائن پر رہے گا، پاکستان میں زراعت کے مستقبل کی پائیداری پر سوچنا ہوگا، پاکستانی حکام کے ساتھ مل کر بڑی محنت سے کام کررہے ہیں،پاکستان ایسا پالیسی فریم ورک بنالے جس سے معاشی خطرات ٹل جائیں۔

 دریں اثنا وزیرخزانہ اسحاق ڈار نےآئی ایم ایف پروگرام کے نویں جائزے کی پیش رفت سے آگاہ کرتے ہوئے  دعویٰ کیا ہے کہ متحدہ عرب امارات کے حکام نے آئی ایم ایف کو پاکستان کے لیے ایک ارب ڈالر کی دوطرفہ امداد کی تصدیق کردی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان اب  اماراتی حکام سے مذکورہ ڈپازٹ  کے لیے ضروری دستاویزات  کی تیاری پرکا م کررہا ہے۔

قبل ازیں  وفاقی وزیر خزانہ  سینیٹر  اسحاق ڈار نے گزشتہ روز  اسلام آباد سےبذریعہ زوم  آئی ایم ایف/ورلڈ بینک کے موسم بہار کے اجلاس میں  آئی ایم ایف کی ڈپٹی منیجنگ ڈائریکٹر اینٹونیٹ مونیسو سیح کے ساتھ شرکت کی۔

وزیر خزانہ سینیٹر اسحاق ڈار اور  اینٹونیٹ مونیسو سیح نے حکومت پاکستان کی معاشی اور مالیاتی پالیسیوں اور اصلاحات اور آئی ایم ایف کے جاری پروگرام کے لیے پیشگی اقدامات پر عمل درآمد کے حوالے سے حکومت پاکستان کے اقدامات پر تبادلہ خیال کیا۔

وزیر خزانہ محمد اسحاق ڈار نے انہیں ملک کے معاشی نقطہ نظر سے آگاہ کیا اور معاشی استحکام لانے کے لیے حکومتی اقدامات سے آگاہ کیا جس سے ترقی کی راہ ہموار ہو رہی ہے۔

 وزیر خزانہ نے مزید بتایا کہ توسیعی فنڈ سہولت کے تحت نویں جائزے کے لیے تمام پیشگی کارروائیاں مکمل ہو چکی ہیں اور حکومت پاکستان آئی ایم ایف کے ساتھ طے پانے والی اپنی ذمے داریوں کو پورا کرنے کے لیے پوری طرح پرعزم ہے۔ وزیر خزانہ نے یہ بھی بتایا کہ تمام بین الاقوامی ذمے داریوں کو بروقت پورا کیا گیا ہے۔

 آئی ایم ایف  کی ڈپٹی منیجنگ ڈائریکٹر  نے حکومت کی پالیسیوں کو سراہا اور آئی ایم ایف  کے ساتھ طے شدہ پیشگی اقدامات کے نفاذ کے سلسلے میں مختلف شعبوں میں حکومت کے اقدامات کی حمایت کی۔ انہوں نے مل کر کام جاری رکھنے کے لیے اپنی حمایت کو مزید بڑھایا اور بہت جلد اسٹاف لیول معاہدے پر دستخط کرنے پر اعتماد ظاہر کیا۔

متعلقہ تحاریر