جو ملک دیوالیہ ہونے جارہاہے وہاں کون سرمایہ کاری کریگا؟ سیکریٹری پٹرولیم
پاکستان سرمایہ کاری کے لئے ہائی رسک ملک ہے، بین الاقوامی کمپنیاں اپنے اثاثے بیچ کر اپنے ملک واپس جارہی ہیں، تیل وگیس کے شعبے میں 13 کمپنیاں چھوڑ کر جا چکی ہیں ،صرف 3 انٹرنیشنل کمپنیاں رہ گئی ہیں، کیپٹن (ر) محمد محمود کا قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں اظہار خیال

سیکریٹری پٹرولیم ڈویژن کیپٹن ریٹائرڈ محمد محمود کے منہ سے سچ نکل گیا۔ کہتے ہیں جو ملک دیوالیہ ہونے جارہا ہے وہاں کون سرمایہ کاری کریگا؟
سیکریٹری پٹرولیم کا کہنا ہے کہ پاکستان ڈیفالٹ کرنے جا رہا ہے، پاکستان سرمایہ کاری کے لئے ہائی رسک ملک ہے، بین الاقوامی کمپنیاں اپنے اثاثے بیچ کر جا رہی ہیں۔
یہ بھی پڑھیے
پاکستان ڈیفالٹ نہیں کریگا، سربراہ آئی ایم ایف: امارات کی مالی معاونت کی یقین دہانی
الیکشن کیلیے 21 ارب نہیں مگر حکومت نے مارچ میں66ارب کا ترقیاتی بجٹ جاری کردیا
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے پٹرولیم کے اجلاس میں سیکریٹری پٹرولیم نے کہا کہ کابینہ نے گھریلو صارفین کو گیس کنکشن فراہم کرنے کی سمری مسترد کردی ہے، کابینہ کا موقف ہے کہ ملک میں گیس نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ غیر یقینی سیاسی صورتحال اور پالسیوں میں عدم تسلسل بڑے مسائل ہیں، بین الاقوامی کمپنیاں اپنے اثاثے بیچ کر اپنے ملک واپس جارہی ہیں، تیل وگیس کے شعبے میں 13 کمپنیاں چھوڑ کر جا چکی ہیں ،صرف 3 انٹرنیشنل کمپنیاں رہ گئی ہیں ۔
سیکریٹری پٹرولیم نے کہاکہ ایران کے ساتھ ڈیزل،ایل پی جی اور آئی پی گیس منصوبہ پر شراکت داروں کا اجلاس بلایاتھا، پابندیوں کے باعث ایران سے پیٹرولیم مصنوعات ایل پی جی کی درآمد ممکن نہیں۔
سیکریٹری پٹرولیم نے بتایا کہ پرائس کیپ کے نیچے رہ کر روس سے تیل کی خریداری کی جاسکتی ہے ،انہوں نے اعتراف کیا کہ ملک میں غیر قانونی ایرانی تیل کی فروخت بہت زیادہ بڑھ گئی ہے، ملک میں ڈیزل اسٹور کرنے کی جگہ نہیں ،صورتحال کے باعث ڈیزل کے دو کارگوز کینسل کردیے ہیں۔
سیکریٹری پٹرولیم نے بتایا کہ آف شور میں 19 بلاکس کی نشاندہی کرلی گئی ہے، بارہ آف شور بلاکس کی نیلامی جون میں کردی جائے گی ۔









