مقبوضہ کشمیر کے سابق گورنر کے خطرناک انکشافات، پاکستانی ایوانوں میں قبرستان کی خاموشی

سابق گورنر ستیہ پال ملک نے ’دی وائر‘ کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ پلوامہ حملے سے قبل وزیراعظم مودی کو حملے کا علم تھا مگر انہوں نے انڈین فوجیوں کو بچانے کی بجائے مروا دیا۔

بھارت کے زیر انتظام مقبوضہ جموں و کشمیر کے سابق گورنر ستیہ پال ملک نے پلوامہ حملے سے متعلق چشم کشا انکشافات کرتے ہوئے بتایا کہ وزیراعظم مودی کو پلوامہ حملے کا علم تھا مگر انہوں نے فوجیوں کو بچانے کی بجائے مروا دیا، تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ستیہ پال کے اتنے بڑے انکشافات کے بعد حکومتی ایوانوں میں خاموشی چھائی رہنا لمحہ فکریہ ہے۔

گذشتہ روز "دی وائر” کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے سابق گورنر بھارتی جموں و کشمیر ستیہ پال ملک وزیراعظم نریندر مودی کے چہرے سے مظلومیت کا نقاب الٹ دیا، ستیہ پال نے الزام عائد کیا ہے کہ مودی نے سیاسی فائدے کے لیے پلوامہ حملے کے حقائق چھپائے۔

یہ بھی پڑھیے 

پی ٹی آئی رہنما فردوس شمیم نقوی نے اینکر ثنا ہاشمی کو نشئی خاتون قرار دے دیا

پی ٹی آئی کے سینئر رہنما علی زیدی کو کراچی سے گرفتار کرلیا گیا

’دی وائر‘ سے گفتگو کرتے ہوئے ستیہ پال ملک کا کہنا تھا کہ وزیراعظم مودی کو پلوامہ حملے کا علم تھا مگر انہوں نے بھارتی فوجیوں کو بچانے کے بجائے مروا دیا اور تمام تر الزام پاکستان پر ڈال دیا۔

نشریاتی ادارے ’دی وائر‘ کو ایک انٹرویو میں ستیہ پال ملک کا کہنا تھا کہ مرکزی وزارتِ داخلہ کی کوتاہی کے سبب فروری 2019 میں پلوامہ میں بھارتی فوجیوں پر تباہ کن حملہ ہوا۔

ستیہ پال ملک پلوامہ حملے اور اسی سال اگست میں آرٹیکل 370 کے خاتمے کے دوران گورنر رہے۔ انہوں نے نریندر مودی کو کشمیر کے حوالے سے ایک انتہائی جاہل انسان قرار دیا۔

سابق گورنر کشمیر کا کہنا تھا کہ مودی پلوامہ حملے سے مکمل آگاہ تھے تاہم انہوں نے اس حملے پر ملبہ پاکستان پر ڈالا تاکہ انتخابات میں اس کا فائدہ اٹھایا جاسکے۔

ستیہ پال نے دعویٰ کیا کہ پلوامہ حملے کے بعد وزیر اعظم نریندر مودی اور اجیت دوول نے مجھے پلوامہ معاملے پر بات کرنے سے منع کر دیا تھا۔

سابق گورنر مقبوضہ کشمیر نے کہا کہ مجھے احساس ہو گیا تھا پلوامہ ڈرامے کا مقصد بی جے پی کو انتخابات میں فائدہ پہنچانا تھا۔ انہوں نے خطے کے لیے ریاستی حیثیت کی بحالی کا مطالبہ کیا۔

ستیہ پال نے دعویٰ کیا تھا کہ نریندر مودی نے ان سے ’زیڈ پلس‘  سیکیورٹی واپس لیکر ’پی ایس او‘ سیکیورٹی اسٹیٹس فراہم کیا ہے جبکہ ان کا اسٹاف بھی ہولی کے بعد سے اپنے فرائض سرانجام نہیں دے رہا ہے۔

سابق گورنر مقبوضہ کشمیر ستیہ پال ملک نے کہا تھا کہ ’زیڈ پلس‘  سیکیورٹی واپس لینے سے ان کی جان کو شدید خطرات لاحق ہیں، اگر مجھے کچھ ہوا تو اس کی ذمہ داری مودی پر عائد ہوگی۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ستیہ پال نے تو نریندر مودی کو مکروہ چہرہ دنیا پر عیاں کرکے اپنا حق تو ادا کردیا ہے مگر افسوس کا مقام یہ ہے کہ اتنے انکشافات کے بعد وزیراعظم شہباز شریف ، وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری ، وزیر دفاع خواجہ آصف اور سب سے بڑھ کر یہ کہ دفتر خارجہ نے قبرستان والی خاموشی اختیار کررکھی ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس کا کوئی بھی واقعہ پاکستانی فوج کی جانب سے ہوجاتا تو ہندوستانی حکومت نے آسمان سر پر اٹھا لینا تھا ، اور اقوام متحدہ کے دروازے کو جا کھٹکھٹا تھا، ان کے وزراء اور میڈیا کی تو پوچھو ہی نا، انہوں نے پاکستانی فوج کے خلاف زہر اگلنے سے کوئی کسر نہیں چھوڑنا تھی، مگر یہاں حکومتی ایوان تو حکومتی ایوان میڈیا پر بھی مُردنی چھائی ہوئی ہے۔

متعلقہ تحاریر