مارچ میں ٹیکسٹائل کی برآمدات میں 22.61 فیصد کمی ہوئی، رپورٹ

وفاقی ادارہ شماریات کی جانب سے جاری ہونے والے اعدادوشمار کے مطابق گزشتہ سال کے اسی مہینے میں برآمدات 1.62 بلین ڈالر سے کم ہو کر 1.26 بلین ڈالر تک پہنچ گئی ہیں۔

پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس (پی بی ایس) کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق رواں مالی سال کے پہلے نو مہینوں میں ٹیکسٹائل اور ملبوسات کی برآمدات سال بہ سال 12.42 فیصد کم ہو کر 12.47 بلین ڈالر رہ گئیں۔

پاکستان ادارہ شماریات کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق مارچ میں برآمدات میں 22.61 فیصد کی زبردست کمی ریکارڈ کی گئی۔ گزشتہ سال کے اسی مہینے میں برآمدات 1.62 بلین ڈالر سے کم ہو کر 1.26 بلین ڈالر تک پہنچ گئی۔ دوسری جانب اگر ماہ بہ ماہ کی بنیاد پر ٹیکسٹائل کی برآمدات کو دیکھا جائے تو اس میں 6.6 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

یہ بھی پڑھیے 

لارج اسکیل مینوفیکچرنگ کی پیداوار میں 11.59 فیصد کمی ریکارڈ

حکومت نے سالانہ ترقیاتی بجٹ پر مسلسل دوسرے سال کلہاڑا چلادیا

وفاقی ادارہ شماریات کے مطابق مجموعی برآمدات بھی جولائی تا مارچ تک مسلسل ساتویں ماہ 9.85 فیصد کمی کے ساتھ 21.05 بلین ڈالر رہ گئیں جو گزشتہ سال کے انہیں مہینوں میں 23.35 بلین ڈالر تھیں۔ یہ مسلسل کمی برآمدی شعبے میں بڑے پیمانے پر ملازمین کی برطرفیوں کی عکاسی کرتی ہے۔

حکومت کو مقررہ برآمدی ہدف حاصل کرنا مشکل ہو گا جس کی وجہ سے ملک کے کم ہوتے زرمبادلہ کے ذخائر پر بھی دباؤ بڑھ رہا ہے۔

اس کی سب سے بڑی وجہ مینوفیکچرنگ کے شعبے میں بڑھتی ہوئی لاگت اور خام مال کی عدم دستیابی ہے۔

ٹیکسٹائل اور ملبوسات کی برآمدات گرنے کی متعدد بڑی وجوہات ہیں، جن میں توانائی کی بلند ہوتی قیمت، رکے ہوئے ریفنڈز، خام مال کی عدم دستیابی اور روپے کی قدر میں زبردست گراوٹ اور عالمی مانگ میں کمی بھی شامل ہیں۔

آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدے کے تحت حکومت نے یکم مارچ سے ایکسپورٹ سیکٹر کے لیے توانائی پر سبسڈی بند کر دی ہے۔ بندرگاہوں پر کنٹینرز کا ڈھیر بھی برآمدات میں کمی کا باعث بن رہا ہے، دوسری طرف وزارت تجارت کی جانب سے برآمدات میں کمی کی وجوہات کی وضاحت کے لیے کوئی سرکاری بیان بھی جاری نہیں کیا گیا۔

ٹیکسٹائل کی برآمدات رواں مالی سال کے پہلے مہینے یعنی جولائی میں منفی نمو دیکھی گئی تھی ، اگست کے مہینے میں بیک لاگ کی وجہ سے معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا تھا۔ برآمدات میں کمی ایک تشویشناک عنصر ہے، جس کی وجہ سے ملک کی بیرونی ادائیگیوں کے توازن میں بگاڑ پیدا ہورہا ہے۔

وفاقی ادارہ شماریات کے اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے رواں مالی سال میں ریڈی میڈ ملبوسات کی برآمدات میں 7.20 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے ، جبکہ مقدار میں 56.79 فیصد اضافہ ہوا، جب کہ نٹ ویئر کی ایکسپورٹ میں 9.10 فیصد کمی ہوئی لیکن مقدار میں 10.61 فیصد اضافہ ہوا، بیڈ ویئر کی برآمدات میں منفی 7.31 فیصد اضافہ ہوا۔

کاٹن یارن کی برآمدات میں 36.92 فیصد کمی واقع ہوئی، جبکہ سوت کی برآمدات میں 31.69 فیصد کمی واقع ہوئی۔ ایک سال پہلے کے مقابلے مالی سال کے پہلے 9 ماہ کے دوران میک اپ آرٹیکلز اور تولیے کی برآمدات میں 14.71 فیصد کمی ہوئی، تاہم  ٹینٹ، کینوس اور ترپال کی برآمدات میں 25.10 فیصد اضافہ ہوا۔

پاکستان ٹیکسٹائل ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے سرپرست اعلیٰ خرم مختار نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ٹیکسٹائل کی برآمدات میں کمی حکومت کی حکمت عملی کے فقدان اور مؤثر طریقے سے ترجیح دینے میں ناکامی کا نتیجہ ہے۔ انہوں کا مزید کہنا تھا کہ ایسا لگتا ہے کہ حکومت کے اکنامک مینیجرز روزانہ کی بنیاد پر معیشت کو چلا رہے ہیں۔

متعلقہ تحاریر