پی اے سی نے ایف آئی اے کو 600 نادہندگان کے اثاثے ضبط کرنے کی ہدایت کردی
چیئرمین پی اے سی نور عالم خان کے مطابق پی ٹی آئی دور حکومت میں 1 ارب ڈالر کی رقم حیسکول پیٹرولیم کمپنی اور 3 ارب ڈالر 6 سو افراد کو زیرو انٹرسٹ پر دیئے گئے۔
پی ٹی آئی دور میں بدعنوانی کی نئی تاریخ رقم، 4 ارب ڈالر بلاسود قرض فراہم کیے جانے کا انکشاف، پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ایف آئی اے کو حیسکول اور بائیکو سمیت تمام 600 نادہندگان کے اثاثے ضبط کرنے کی ہدایت کردی۔
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا اجلاس نور عالم خان کی زیر صدارت ہوا ، اجلاس میں چیئرمین کمیٹی نور عالم خان نے کہا کہ حکومت آئی ایم ایف سے ایک ارب ڈالرز کے لئے تمام شرائط ماننے پر مجبور ہے تو دوسری جانب سابق دور میں چار ارب ڈالرز بلاسود بانٹ دیئے گئے۔
یہ بھی پڑھیے
لارج اسکیل مینوفیکچرنگ کی پیداوار میں 11.59 فیصد کمی ریکارڈ
مارچ میں ٹیکسٹائل کی برآمدات میں 22.61 فیصد کمی ہوئی، رپورٹ
چیئرمین نور عالم خان کے مطابق 3 ارب ڈالر 6 سو افراد میں زیرو شرح سود پر قرض دیئے جانے کا انکشاف سامنے آیا۔ 1 ارب ڈالر کی رقم حیسکول پیٹرولیم کمپنی اور 3 ارب ڈالر 6 سو افراد کو زیرو انٹرسٹ پر دیئے گئے۔
چیئرمین پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نور عالم خان نے 3 ارب ڈالر کی رقم 6 سو افراد کو فراہم کرنے کی لسٹ ایف آئی اے سے عید کے بعد طلب کرلی ہے۔ بتایا گیا کہ حیسکول ڈیفالٹڈ کمپنی، بائیکو بھی ڈیفالٹ کر چکا جو حکومت پاکستان کا 44 ارب کا مقروض ہے۔
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (پی اے سی) نے ایف آئی اے کو حیسکول کمپنی کی جائیداد، بنک بیلنس تحویل میں لینے کی ہدایت کر دی ہے۔
ایف آئی اے کو 6 سو افراد کے گھر، بنک بیلنس، جائیدادیں بھی تحویل میں لینے کی ہدایت بھی کی گئی ہے۔ نور عالم خان نے کہا کہ سابق گورنر رضا باقر، سابق وزیر خزانہ شوکت ترین ایک ارب ڈالر دلوانے میں ملوث ہیں۔
برجیس طاہر نے کہا کہ زیرو شرح سود پر 4 ارب ڈالر 160 روپے ایکسچینج ریٹ پر دیے گئے تھے، ڈالر کا ریٹ 280 روپے پر پہنچ چکا ، جو ملکی معیشت کے 9 سو ارب سے زائد بنتے ہیں۔









