حکومت اور پاکستان تحریک انصاف کے درمیان مذاکرات کا پہلا دور ختم

وفاقی حکومت کی ٹیم اور پی ٹی آئی کی ٹیم کے درمیان ہونا والا پہلا براہ راست رابطہ اختتام پزیر ہو گیا ، جمعے کی سہ پہر 3 بجے دوبارہ ملنے پر اتفاق۔

وفاقی حکومت اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی مذاکراتی ٹیموں کے درمیان پنجاب اور خیبرپختونخوا کے انتخابات کی تاریخ کے معاملے پر پارلیمنٹ ہاؤس میں ملاقات ہوئی۔ سیاسی تجزیہ کار اس ملاقات کو ایک غیر معمولی اقدام قرار دے رہے ہیں۔

وفاقی حکومت کی ٹیم اور پی ٹی آئی کی ٹیم کے درمیان مذاکرات پارلیمنٹ ہاؤس میں ہوئے۔ حکومت کی جانب سے مذاکرات میں وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ ، وزیر خزانہ اسحاق ڈار ، سینیٹر یوسف رضا گیلانی ، وفاقی وزیر سید نوید قمر اور کشور زہرا نے شرکت کی جبکہ پی ٹی آئی کی جانب سے وائس چیئرمین پی ٹی آئی شاہ محمود قریشی، رہنما تحریک انصاف فواد چوہدری اور علی ظفر نے شرکت کی۔

یہ بھی پڑھیے 

مجھے صرف ان 3 لوگوں سے خطرہ ہے جنہیں وزیرآباد حملے میں نامزد کیا، عمران خان

ایم کیو ایم پاکستان کے مجوزہ استعفے، سنجیدہ معاملہ یا بلیک میلنگ؟

پارلیمنٹ ہاؤس میں تقریباً دو گھنٹے تک جاری والے مذاکرات اختتام پذیر ہو گئے۔ حکومت اور اپوزیشن کے مذاکرات کار (کل) سہ پہر تین بجے دوبارہ ملاقات کریں گے۔

مذاکرات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا کہ ہمیں آئین کے اندر رہ کر معاملات طے کرنا ہوں گے۔

پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ دونوں فریق دوبارہ ملیں گے اور تمام جماعتوں سے مشاورت کے بعد فیصلے کیے جائیں گے۔

سیاسی حریفوں پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ اور پی ٹی آئی کے درمیان یہ پہلا براہ راست رابطہ ہے جس نے سیاسی درجہ حرارت کو کافی حد تک کم کیا ہے، کیونکہ ملک میں جاری سیاسی کشمکش نے بحران کو انتہائی پولرائزیشن تک پہنچا دیا ہے۔

خیال رہے کہ سپریم کورٹ آف پاکستان (ایس سی پی) نے بیک وقت انتخابات سے متعلق کیس کی سماعت غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کردی ہے۔

یہ مذاکرات وزیر اعظم شہباز شریف کی جانب سے قومی اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ لینے کے بعد ہو رہے ہیں۔

وفاقی حکومت کی 7 رکنی ٹیم میں سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی، سید نعیم قمر، وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق، وزیر خزانہ اسحاق ڈار، وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ، ایم کیو ایم کیو پی خسر زہرہ شامل ہیں۔

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی مذاکراتی ٹیم پی ٹی آئی کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی، سابق وزیر اطلاعات فواد چوہدری اور علی ظفر پر مشتمل تھی۔

اس سے قبل چیئرمین سینیٹ محمد صادق سنجرانی نے عام انتخابات کے انعقاد سمیت جاری سیاسی اور معاشی بحران سے نمٹنے کے لیے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ اور اپوزیشن بنچوں پر مشتمل کمیٹی تشکیل دینے کی تجویز دی ہے۔

سینیٹ سیکرٹریٹ کے میڈیا ڈائریکٹوریٹ کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز کے مطابق چیئرمین سینیٹ نے اس کمیٹی کی تشکیل کی تجویز سینیٹ میں قائد ایوان سینیٹر اسحاق ڈار اور سینیٹ میں قائد حزب اختلاف سینیٹر شہزاد وسیم کو لکھے گئے الگ الگ خطوط میں دی تھی۔

متعلقہ تحاریر