اتحادی حکومت اور تحریک انصاف کے مذاکرات میں مثبت پیش رفت کا امکان
فریقین کے درمیان مذاکرات کے پیش نظر سپریم کورٹ نے گزشتہ روز کی سماعت کا حکم نامہ جاری نہیں کیا جبکہ تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے گزشتہ روز اپنا خطاب بھی ملتوی کردیا۔
پنجاب اور خیبرپختونخوا میں الیکشن کےانعقاد کیلیے سپریم کورٹ کی تجویز پراتحادی حکومت اور پاکستان تحریک انصاف کے درمیان مذاکرات کے پہلے دور کے اختتام پر مثبت پیش رفت کا امکان پیدا ہوگیا ہے۔
فریقین کے درمیان مذاکرات کے پیش نظر سپریم کورٹ نے گزشتہ روز کی سماعت کا حکم نامہ جاری نہیں کیا جبکہ تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے گزشتہ روز اپنا خطاب بھی ملتوی کردیا۔
یہ بھی پڑھیے
حکومت اور پاکستان تحریک انصاف کے درمیان مذاکرات کا پہلا دور ختم
دی اکانومسٹ نے پاکستان میں مزید معاشی بدحالی کی پیشگوئی کردی
اتحادی حکومت اور پاکستان تحریک انصاف کے درمیان جاری مذاکرات سے باخبر ذرائع نے نیوز 360 کو بتایا ہے کہ مذاکرات کے آغاز اوردونوں جانب سے برف پگھلنے کی اطلاعات کےباعث سپریم کورٹ نے اپنی گزشتہ روز کی سماعت کا حکم نامہ جاری نہیں کیا۔
ذرائع کے مطابق سپریم کورٹ پیر تک مذاکرات کے نتیجے کا انتظار کرے گی اور اس کے بعدامکان ہےکہ منگل کے روز مذاکرات کا نتیجہ سامنے آنے کے بعد سپریم کورٹ اپنا حکم جاری کرے گی۔ذرائع کے مطابق اس دوران گزشتہ روز کی سماعت کا کوئی حکم نامہ جاری بھی ہوا تو وہ سرسری نوعیت کا ہوگا۔
دوسری جانب مثبت پیش رفت کاامکان یوں بھی ظاہر کیا جارہا ہے کہ گزشتہ روز مذاکرات کے پہلے دور کے اختتام پر تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے کارکنوں سے خطاب کرنا تھا جسے ملتوی کردیا گیا ۔
یاد رہے کہ اتحادی حکومت اور تحریک انصاف کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور آج بعد نماز جمعہ ہوگا۔ گزشتہ روز پارلیمنٹ ہاؤس کے کمیٹی روم میں ہونے والے مذاکرات کے پہلے دور میں تحریک انصاف کی جانب سے شاہ محمود قریشی کی سربراہی میں فواد چودری اور ظفر اقبال پر مشتمل تین رکنی وفد نے شرکت کی تھی جبکہ اتحادی حکومت کی جانب سے سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی، نوید قمر، وزیرخزانہ اسحاق ڈار، اعظم نذیر تارڑ ،خواجہ سعد رفیق اور کشور زہرا نے شرکت کی تھی۔
نجی ٹی وی نے ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا ہےکہ پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے حکومتی وفد کے سامنے 3 شرائط رکھی گئی ہیں۔ پی ٹی آئی کی شرط ت ہے کہ رواں سال مئی میں قومی اسمبلی اور دونوں صوبائی اسملیاں تحلیل کی جائیں، 14 مئی کے علاوہ ایک ساتھ انتخابات کے لیے آئین میں ترمیم کی جائے، آئینی ترمیم کے لیے تحریک انصاف کے استعفے واپس لیے جائیں اور رواں سال جولائی میں ملک بھر میں انتخابات کرائے جائیں۔









