شرائط در شرائط: آئی ایم ایف کا وزارت خزانہ کو 20 لاکھ دکانداروں کو ٹیکس نیٹ میں لانے کا ٹاسک
میڈیا رپورٹس کے مطابق آئندہ بجٹ میں ٹیکس آمدن بڑھانے کے لیے دکانداروں کے لیے مشکلات ہوسکتی ہیں کیونکہ آئندہ مالی سال 2023-24 وفاقی بجٹ میں دکانداروں پر ٹیکس عائد کرنے کی تجویز ہے۔

آئی ایم ایف کی جانب سے ڈومور کا نہ رکنے والا سلسلہ جاری ہے ، نئی شرط کے تحت بین الاقوامی مالیاتی ادارے نے حکومت پاکستان کو آیندہ بجٹ سے قبل 20 لاکھ دکانداروں کو ٹیکس نیٹ میں لانے کی اسکیم دے دی ہے ، اس نئی شرط سے تاجروں میں نئی ہیجانی کیفیت پائی جاتی ہے۔
آیندہ مالی سال کے بجٹ میں آئی ایم ایف کی ڈکٹیشن پر عمل درآمد کیے جانے کا امکان ہے اور اس سلسلے میں بین الاقوامی مالیاتی ادارے نے نئے بجٹ میں دکانداروں سے پورا ٹیکس وصول کرنے کی شرط عائد کردی ہے۔
یہ بھی پڑھیے
یو بی ایل نے شوکت ترین کے تباہ حال سلک بینک کی خریداری میں دلچسپی ظاہر کردی
ایشیائی ترقیاتی بینک نےمقامی آبادی کے اعتراضات کے بعد ملیر ایکسپریس وے سے ہاتھ کھینچ لیے
میڈیا رپورٹس کے مطابق آئندہ بجٹ میں ٹیکس آمدن بڑھانے کے لیے دکانداروں کے لیے مشکلات ہوسکتی ہیں کیونکہ آئندہ مالی سال 2023-24 وفاقی بجٹ میں دکانداروں پر ٹیکس عائد کرنے کی تجویز ہے۔
آئی ایم ایف شرائط پر دکانداروں پر ٹیکس عائد کرنے کیلئے اسپیشل اسکیم لائے جانے کا امکان ہے۔ اسپیشل اسکیم کے تحت دکانداروں کیلئے بجلی کے بلوں پر ٹیکس عائد کیا جائے گا۔
رپورٹ کے مطابق بجلی کی تقسیم کار کمپنیاں دکانداروں سے بجلی کے بلوں کی مد میں ٹیکس وصول کریں گی۔ سالانہ 1 کروڑ آمدن والے دکانداروں پر ٹیکس کیلئے ایف بی آر اسپیشل اسکیم تیار کر رہا ہے۔
آئی ایم ایف نے بیس لاکھ دکانداروں کو ٹیکس نیٹ میں لانے کی تجویز دی ہے۔ اسپیشل اسکیم میں شامل دکانداروں کو ایکٹو ٹیکس پیئر لسٹ میں شامل کیا جائے گا۔ سالانہ 1 کروڑ آمدن والے دکاندار اور سروسز فراہم کرنے والوں کیلئے اسکیم لانچ ہو گی۔ اس اسکیم کے دکان داروں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔









