سلطان النیادی خلا میں چہل قدمی کرنے والے پہلے مسلمان اور عرب خلانورد بن گئے

خلائی چہل قدمی کا مشن 6 گھنٹے تک جاری رہا، اماراتی خلائی ادارے نے تاریخی مناظر براہ راست نشر کیے، امارات کے نائب صدر اور وزیر اعظم شیخ محمد بن راشد الکتوم کی تاریخ رقم کرنے پر النیادی کو مبارکباد

متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے خلاباز سلطان النیادی نے  خلا میں چہل قدمی کرنے والے پہلے عرب خلانورد ہونے کا اعزاز حاصل کرکے تاریخ رقم کردی۔

41 سالہ النیادی یو اے ای سے خلا میں جانے والے دوسرے تاہم وہ امریکی سرزمین سے طویل خلائی مشن کے لیے اڑان بھرنے والے پہلے اماراتی خلاباز ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

ناسا کے چاند مشن کیلیے پہلی مرتبہ خاتون اور سیاہ فام مرد خلاباز کا انتخاب

امریکی اور جاپانی خلا بازوں نے بین الاقوامی خلائی اسٹیشن سسٹم اپ گریڈ کردیا

دبئی میں متحدہ عرب امارات کے خلائی پروگرام کے ادارے محمد بن راشد اسپیس سینٹر کی جانب سے النیادی کی خلا میں چہل قدمی کے مناظر کو براہ راست نشر کیاگیا۔

متحدہ عرب امارات کے نائب صدر، وزیراعظم اور دبئی کے حکمران  شیخ محمد بن راشد المکتوم نے  خلا میں چہل قدمی کرنے والے پہلے مسلمان، پہلے عرب اور پہلے اماراتی شہری بننے کا اعزاز حاصل کرنے پر النیادی کو مبارکباد دی ہے۔

یو اے ای کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ’’وام‘‘ کے مطابق خلا  باز  کا خلائی سٹیشن کی دیکھ بھال اور معلومات کے حصول کے لیے اسپیس شپ یا خلائی اسٹیشن سے باہر نکل کر خلا میں چہل قدمی کرنا ایک معمول کی کارروائی ہے۔یہ خلائی چہل قدمی مشن تقریباً ساڑھے چھ گھنٹے تک جاری رہا اور اس میں ناسا کے فلائٹ انجینئر اسٹیفن بوون سلطان النیادی کے ہمراہ  تھے۔

النیادی کو خلائی اسٹیشن کے پاور جنریشن سسٹم کو اپ گریڈ کرنے اور ایک بڑے مواصلاتی آلات کی بازیافت کے لیے خلائی چہل قدمی کے لیے ناسا کے خلاباز اسٹیفن بوون کے ساتھ اس مشن میں شامل کیا گیا تھا۔

 خلائی چہل قدمی کے لیے خلاباز انتخاب کے سخت عمل سے گزرتے ہیں اور انہیں انجینئرنگ، روبوٹکس اور لائف سپورٹ سسٹم جیسے مختلف شعبوں میں غیر معمولی تربیت دی جاتی ہے۔

سلطان النیادی نے خلائی چہل قدمی کی تیاری کے لیے ہیوسٹن، ٹیکساس میں جانسن اسپیس سینٹر میں ناسا کی نیوٹرل بوائینسی لیبارٹری میں 55 گھنٹے سے زیادہ تربیت حاصل کی ہے۔

سلطان النیادی 2 مارچ کو فلوریڈا میں ناسا کے کینیڈی اسپیس سینٹر سے چھ ماہ کے خلائی مشن کے لیے روانہ ہوئے تھے۔ وہ اس سائنس مشن کے دوران خلاء میں انسانی خلیوں کی نشوونما سے لے کر مائیکرو گریوٹیی میں آتش گیر مادوں کو کنٹرول کرنے تک کے تجربات کریں گے۔

متعلقہ تحاریر