لاہور ہائی کورٹ سے چوہدری پرویز الٰہی کی حفاظتی ضمانت منظور، پولیس کو گرفتاری سے روک دیا

سابق وزیراعلیٰ پنجاب نے 6 مئی تک حفاظتی ضمانت کے باوجود پولیس آپریشن کے خلاف لاہور ہائی کورٹ میں توہین عدالت کی درخواست دائر کی تھی۔

لاہور ہائی کورٹ نے سابق وزیراعلیٰ پنجاب اور پی ٹی آئی کے صدر چوہدری پرویز الٰہی کی دہشت گردی اور کرپشن کے الگ الگ مقدمات میں حفاظتی ضمانت منظور کرلی۔

انسداد بدعنوانی کے مقدمے میں انہیں 15 مئی تک حفاظتی ضمانت دی گئی تھی، جب کہ دہشت گردی اور دیگر الزامات کے تحت درج مقدمے میں انہیں 4 مئی تک ریلیف دیا گیا ہے۔

عدالت نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ چوہدری پرویز الہیٰ کے خلاف اگر کوئی نیا مقدمہ دائر کیا جاتا ہے تو وہ حفاظتی ضمانت کے لیے نئی درخواست دائر کریں گے۔

یہ بھی پڑھیے 

عمران خان نے اپنے اوپر ایک اور مبینہ قاتلانہ حملے کا الزام لگادیا

عمران خان کی ہدایت پر پنجاب اسمبلی کی تحلیل کا”جرم“، گجرات میں پرویزالہٰی کے گھر چھاپہ

لاہور ہائی کورٹ کے جج جسٹس اسجد جاوید گھرال نے چوہدری پرویز الٰہی کی درخواست پر سماعت کی۔ دوران سماعت پرویز الہیٰ کے وکیل نے دعویٰ کیا کہ ہائی کورٹ نے 2 اپریل کو اینٹی کرپشن کیس میں حفاظتی ضمانت منظور کی تھی ، تاہم ان کے موکل کی گرفتاری کے لیے ، ان کے گھر پر چھاپہ مارا گیا۔

لاہور میں ان کی رہائش گاہ پر محکمہ اینٹی کرپشن کی جانب سے آدھی رات کو چھاپے کے بعد غالب مارکیٹ تھانے میں درج مقدمے میں پرویز الٰہی کے خلاف دہشت گردی اور دیگر الزامات کے تحت بھی مقدمہ درج کرلیا گیا۔

عدالت نے پرویز الٰہی کو دہشت گردی کیس میں ضمانت کے لیے متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت کی۔

دریں اثنا، دہشت گردی کیس میں چوہدری پرویز الہیٰ کی درخواست ضمانت ، جسٹس علی باقر نجفی کی سربراہی میں دوسرے بینچ کے سامنے سماعت کے لیے مقرر کر دی گئی۔

عدالت کے روبرو دلائل دیتے ہوئے پرویز الہیٰ کے وکیل کا کہنا تھا کہ ان کے موکل کے خلاف مقدمات روزانہ کی بنیاد پر دائر کیے جا رہے ہیں، اور انہوں نے پہلے ہی دن دہشت گردی کے مقدمے میں حفاظتی ضمانت کے لیے درخواست دائر کی تھی۔

درخواست میں پنجاب حکومت، محکمہ اینٹی کرپشن، تھانہ غالب مارکیٹ اور دیگر کو فریق بنایا گیا تھا۔

درخواست گزار کے وکیل کا کہنا تھا کہ میرے موکل کو مذکورہ کیس میں متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کا موقع دیا جائے۔ اس لیے میری عدالت عالیہ سے درخواست ہے کہ عدالت میرے موکل کو عدالت سے رجوع کرنے کے لیے پیشگی ضمانت دے۔

درخواست میں عدالت عالیہ سے یہ بھی استدعا کی گئی ہے کہ پولیس کو پرویز الٰہی کو گرفتار کرنے اور ہراساں کرنے سے روکا جائے۔

توہین عدالت کی درخواست

علاوہ ازیں سابق وزیراعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الہٰی نے لاہور ہائیکورٹ میں توہین عدالت کی درخواست بھی دائر کی۔ درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ عدالتی احکامات کے باوجود پولیس کی جانب سے ان کی گرفتاری کے لیے آپریشن کیا گیا۔

درخواست میں انسپکٹر جنرل پولیس پنجاب، ڈائریکٹر جنرل اینٹی کرپشن اور دیگر کو فریق بنایا گیا ہے۔

پرویز الٰہی نے عدالت کو بتایا کہ انہیں 6 مئی تک حفاظتی ضمانت دی گئی تھی، اس کے باوجود پولیس کی جانب سے ان کی گرفتاری کے لیے آپریشن کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ پولیس کی یہ کوشش واضح طور پر توہین عدالت کے زمرے میں آتی ہے۔

چوہدری پرویز الہٰی کی جانب سے دائر درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ عدالت پنجاب پولیس کے سربراہ اور دیگر کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کا حکم دے۔

متعلقہ تحاریر