سپریم کورٹ کے ساتھ اظہار یکجہتی اور محاذ آرائی ، مسلم لیگ (ن) اور پی ٹی آئی آمنے سامنے
پاکستان مسلم لیگ (ن) کا کہنا ہے کہ اس مرتبہ ہم وزیراعظم کی قربانی نہیں دیں جبکہ پاکستان تحریک انصاف نے سپریم کورٹ اور چیف جسٹس سے اظہار یکجہتی کے لیے ریلیاں نکالنے کا اعلان کیا ہے۔
وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ نے کہاہے کہ ہم اس مرتبہ وزیراعظم کی قربانی نہیں ہونے دیں گے ، اگر ایگزیکٹو آرڈر سے وزیراعظم گھر جاسکتا ہے تو ایگزیکٹو آرڈر سے چیف جسٹس کو بھی گھر بھیجا جاسکتا ہے۔ رانا ثناء کے بیان پر قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ وزیر داخلہ سیدھی سیدھی چیف جسٹس صاحب کو دھمکی دے رہے ہیں ، لیکن شائد انہیں معلوم نہیں کہ ایگزیکٹو آرڈر بھی سپریم کورٹ ہی جاری کرسکتی ہے۔
ان خیالات کا اظہار وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ نے گذشتہ رات جیو نیوز کے پروگرام "آج شاہ زیب خانزادہ” میں گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ 14 مئی کو انتخابات اب جنات ہی کرسکتے ہیں ، الیکشن کمیشن نے ملک بھر میں ایک ساتھ انتخابات کے لیے 8 اکتوبر کی تاریخ دی ہے ، حکومتی مذاکراتی ٹیم نے اسمبلیاں 15 روز پہلے تحلیل کرنے کی تجویز پی ٹی آئی کی دلجوئی کے لیے دی تھی۔
یہ بھی پڑھیے
بشریٰ بی بی کا مریم نواز پر ہتک عزت کا دعویٰ دائر کرنے کا فیصلہ، فواد چوہدری
عمران خان کی ہدایت پر پنجاب اسمبلی کی تحلیل کا”جرم“، گجرات میں پرویزالہٰی کے گھر چھاپہ
سپریم کورٹ کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا کہ عدالت نے جہاں 30 دن کی گنجائش نکالی ہے وہاں 60 یا 65 دن کی گنجائش نکال لے۔ پی ٹی آئی نے کےپی اور پنجاب کی اسمبلیاں تحلیل کرکے سازش کی۔ اب ہم اپنی تین اسمبلیاں توڑ کر اس سازش کی ناکامی کا انہیں انعام کیوں دیں۔
واضح رہے کہ وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ کی جانب سے یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب گذشتہ روز چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے اپنے ایک بیان کہا تھا کہ تمام پاکستانی ہفتے کے روز اپنے گلی محلوں اور گاؤں دیہاتوں میں جمع ہوکر چیف جسٹس آف پاکستان کے ساتھ اظہار یکجہتی کریں۔
چئیرمین تحریک انصاف کا عوام کے نام اہم ویڈیو پیغام:
ہفتے کے دن مغرب سے ایک گھنٹہ پہلے اپنے اپنے گاؤں اور محلوں میں جمع ہو کر چیف جسٹس آف پاکستان اور سپریم کورٹ سے اظہار یکجہتی کا اظہار کریں pic.twitter.com/t2cAalf6ut— Ch Fawad Hussain (@fawadchaudhry) May 3, 2023
یاد رہے کہ سابق وزیراعظم اور مسلم لیگ (ن) کے سینئر ترین رہنما شاہد خاقان عباسی نے قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ چیف جسٹس آف پاکستان کو قومی اسمبلی میں بلایا جائے اور ان سے استفسار کیا جائے کہ انہوں نے قومی اسمبلی کی کارروائی کا ریکارڈ کیوں طلب کیا ہے۔؟

دوسری جانب وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ اسپیکر قومی اسمبلی ایک کمیٹی تشکیل دیں جو سپریم کورٹ کی قومی اسمبلی کی کارروائی میں غیراخلاقی مداخلت کو روکے۔

خواجہ محمد آصف کا کہنا تھا کہ خواجہ آصف نے کہا کہ جسٹس منیر سے موجودہ عدلیہ تک آئین میں مداخلت کا معاملہ حل کیا جائے، آمروں نے جب جب آئین مسخ کیا عدلیہ نے اس پر انگوٹھے لگائے۔









