بینکوں کا نجی شعبے کو قرض دینے سے گریز، ٹریژری بلز میں 705 ارب کی سرمایہ کاری

36 فیصد کی غیر معمولی افراط زر اور انتہائی غیر یقینی معاشی و سیاسی صورتحال نجی شعبے کو انتہائی کم قرض دینے کی دو واضح وجوہات ہیں، بینکرز

حکومت نے بینکوں کی جانب سے 11کھرب 95ارب روپے کی بولیوں کی پیشکش کے باوجود مارکیٹ ٹریژری بلز کی نیلامی کے ذریعے 705 ارب روپے اکٹھے کرلیے۔

روزنامہ ڈان کے مطابق بولی لگانے کا  رجحان نے ظاہر  کرتا ہے  کہ سرمائے سے بھرے بینک  سرکاری بلز میں  زیادہ سے زیادہ سرمایہ کاری   کے لیے تیار ہیں، حکومت 750 ارب روپے کے اپنے ہدف کے قریب رہی لیکن منظور شدہ رقم 630 ارب روپے کی میچور ہونے والی رقم سے کہیں زیادہ ہے۔

یہ بھی پڑھیے

معاشی ماہر نے درآمدات میں گراوٹ کو مہنگائی کی وجہ قرار دیدیا

ملکی تجارتی خسارہ 23 ارب ڈالر سے تجاوز کرگیا

رواں مالی سال کے پہلے 10 ماہ کے دوران 381 ارب روپے کا ریونیو خسارہ بتایا گیا تھا لیکن نقد رقم کی کمی سے دوچار حکومت پہلے ہی کمرشل بینکوں سے تقریباً 30کھرب روپے کا قرض لے چکی ہے۔

مارکیٹ کے ماہرین کا کہنا ہے کہ رواں مالی سال کے دوران بینکوں کے سرمائے میں اضافہ ہوا ہے  کیونکہ وہ نجی شعبے کو قرض دینے کے لیے تیار نہیں تھے۔رواں مالی سال کے دوران  نجی شعبے کے لیے بینک  کے قرضوں  میں 81 فیصد کی کمی ہوئی جو معیشت کی خراب صورتحال کی نشاندہی کرتی ہے، آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک نے رواں مالی سال جی ڈی پی کی شرح نمو 0.5 فیصد رہنے کی پیش گوئی کی ہے۔

نجی شعبے کو قرضوں کی فراہمی میں کمی کی ایک بڑی وجہ ریکارڈ شرح سود ہے، اسٹیٹ بینک کا پالیسی ریٹ 21 فیصد ہے لیکن صارفین اگر بینکوں سے قرض لینا چاہیں تو انہیں بہت زیادہ شرح سود ادا کرنا ہو گا۔

بینکرز نے کہا کہ نجی شعبے کو انتہائی کم قرض دینے کی دو واضح وجوہات ہیں جن میں سے ایک 36 فیصد کی غیر معمولی افراط زر اور دوسری وجہ انتہائی غیر یقینی معاشی اور سیاسی صورتحال ہے جس کی وجہ سے بینک قرض دینے کے لیے تیار نہیں ہیں۔

اس طویل غیر یقینی صورتحال سے ایک سال میں مقامی کرنسی کی قدر میں 54 فیصد کمی ہوئی اور بینکرز کا کہنا ہے کہ قدر میں مسلسل کمی کے ساتھ افراط زر کی بلند شرح نے بینکوں کے لیے خطرات سے پاک سرکاری بلز میں سرمایہ کاری کرنے کے علاوہ کوئی دوسرا آپشن نہیں چھوڑا۔

حکومت نے بدھ کو تقریباً 22 فیصد پر رقم ادھار لی، اس شرح پر رقم کا حصول حکومت پر قرضوں کا بوجھ ڈالے گا اور اگلے بجٹ میں بڑا حصہ مقامی قرضوں کی فراہمی کا ہو گا۔

ساتھ ہی  مالیاتی شعبے میں شرح سود کے بارے میں غیر یقینی صورتحال اب بھی برقرار ہے، بڑھتی ہوئی مہنگائی اسٹیٹ بینک کو پالیسی ریٹ بڑھانے پر مجبور کر سکتی ہے اور یہی وجہ تھی کہ بینک سب سے زیادہ رقم تین ماہ کے پیپرز میں لگاتے ہیں۔

حکومت نے 892 ارب روپے کی بولیوں کے باوجود 3 ماہ کے پیپرز کے لیے 613.2 ارب روپے کی رقم 21.99 فیصد شرح منافع پر قبول کی۔حکومت نے بالترتیب 21.96فیصد اور 21.97فیصد کے حساب سے 6 اور 12 ماہ کے پیپرز کے لیے 3.75 ارب روپے اور 39.3 ارب روپے اکٹھے کیے ہیں۔

حکومت نے غیر مسابقتی بولیوں کے ذریعے 49.3 ارب روپے بھی اکٹھے کیے جو کل 705 ارب روپے بنتے ہیں۔حکومت نے پاکستان انویسٹمنٹ بانڈز کے ذریعے 5 سال کے لیے 40 ارب روپے اور تین اور دو سالہ پی آئی بیز کے لیے مجموعی طور پر 52.7 ارب روپے اکٹھے کیے ہیں۔

متعلقہ تحاریر