ملک کی دو اعلیٰ ترین وکلا تنظیموں کے درمیان جاری تنازع سپریم کورٹ جاپہنچا
سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن نے پاکستان بار کونسل کی جانب سے ایڈیشنل سیکریٹری کی معطلی کو عدالت عظمیٰ میں چیلنج کردیا، پاکستان بارکونسل کی ایگزیکٹو کمیٹی کے صدر سمیت 7 ارکان کی رکنیت بھی معطل کردی

ملک کی دو اعلیٰ ترین وکلا تنظیموں کے درمیان جاری تنازع سپریم کورٹ جاپہنچا۔سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن نے پاکستان بار کونسل کی جانب سے اپنے سیکریٹری اور ایڈیشنل سیکریٹری کی معطلی کو سپریم کورٹ میں چیلنج کردیا۔
رات گئے سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن نے سنگین بے ضابطگی اور سپریم کورٹ کے وکلا کی تنظیم پر قبضہ کرنے کی مبینہ کوششوں پر پاکستان بار کونسل کی ایگزیکٹو کمیٹی کےچیئرمین حسن رضا پاشا اور اسکے اراکین کی رکنیت بھی معطل کردی۔
یہ بھی پڑھیے
پاکستان بار کونسل کی ہڑتال ناکام؛ وکلاء عدالتوں میں پیش ہوتے رہے
آزاد عدلیہ کیلئے تحریک چلانی پڑی تو چلاٸی جاٸے گی، آل پاکستان وکلا کنونشن
سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن نے سینئر وکیل حامد خان کے توسط سے دائر درخواست میں عدالت عظمیٰ سے استدعا کی ہے کہ پاکستان بار کونسل اور اس کی ایگزیکٹو کمیٹی کی جانب سے مقتدر اختر شبیر اور ملک شکیل الرحمان کو ایگزیکٹو کمیٹی کے فیصلوں کی مبینہ خلاف ورزی پر جاری کیے گئے نوٹسز کو کالعدم قرار دیا جائے۔
اس تنازع کا آغاز 24 فروری کوپاکستان بارکونسل کی ایگزیکٹو کمیٹی کے اجلاس میں ہوا جس میں فیصلہ کیا گیا تھا کہ پنجاب اور کے پی کے انتخابات میں تاخیر کے حوالے سے ازخود نوٹس کیس میں صدر عابد زبیری کے بجائے محمد احسن بھون سپریم کورٹ بارایسوسی ایشن کی نمائندگی کریں گے۔ اس کے بعد پاکستان بارکونسل نے 4 اپریل کو ایگزیکٹو باڈی کے فیصلے کی عدم تعمیل پر دونوں عہدیداروں کو ڈی سیٹ کر دیا۔
درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ نوٹس اور معطلی” صریحاًغیر قانونی، من مانی، بدنیتی، دائرہ اختیار سے تجاوز، سیاسی تحرک اور آرٹیکل 9،A 10، 17، 18، 19، 19A اور 25 کے تحت درج بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہےاور اسے آرٹیکل 4 کے ساتھ ملاکر پڑھیں۔
درخواست میں لیگل پریکٹیشنرز اینڈ بار کونسل رولز 1976 کے رول 125 اور B175 کو بھی چیلنج کرتے ہوئے عدالت سے درخواست کی گئی کہ اسے غیر قانونی قرار دیا جائے اور اسے کالعدم قرار دیا جائے۔
رول 125 پاکستان بارکونسل کو تادیبی وجوہات کی بنا پر وکلا کے خلاف از خود کارروائی شروع کرنے کی اجازت دیتا ہے جبکہ قاعدہ B 175 کونسل کی ہدایات کی عدم تعمیل یا خلاف ورزی پر سزا تجویز کرتا ہے۔
عدالت سے پاکستان بارکونسل کے خلاف حکم امتناعی بھی طلب کیا گیا ہے تاکہ اسے سپریم کورٹ بارایسوسی ایشن کے معاملات میں مداخلت کرنے اور شوکاز نوٹس کی بنیاد پر ایسوسی ایشن کے خلاف منفی یا جبری کارروائی سے روکا جائے ۔
درخواست میں الزام لگایا گیا کہ پاکستان بارکونسل میں اکثریت رکھنے والا گروپ مبینہ ڈکٹیشن کے تحت قانون کی حکمرانی، بار کی آزادی اور عدلیہ کے خلاف سرگرم عمل ہے۔
درخواست گزاروں کو پاکستان بار کونسل کی آزادی پر یقین نہیں ہے، درخواست میں کہا گیا ہے کہ وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ پاکستان بارکونسل کے رکن تھے اور مبینہ طور پر اپنی سیاسی جماعت کے ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے لیے کونسل پر اپنا اثر و رسوخ استعمال کر رہے تھے۔
درخواست میں استدلال کیا گیا کہ نہ تو سپریم کورٹ بار ایسوسی اینشن اور نہ ہی اس کے ارکان کسی بھی طرح سے پاکستان بارکونسل کے سامنے جوابدہ ہیں کیونکہ یہ سپریم کورٹ کے اندراج شدہ تمام وکلا کی ایسوسی ایشن ہے جو ایک آزاد اور جمہوری فورم کے طور پر کام کرتی ہے جو سپریم کے تمام وکلاءکی مساوی اور منصفانہ نمائندگی کو یقینی بناتی ہے۔
درخواست میں الزام لگایا گیا ہے کہ شوکاز نوٹس صرف سپریم کورٹ بارایسوسی ایشن کی آواز کو روکنے اور پاکستان بار کونسل میں پھیلی منافقت اور بدعنوانی کو بے نقاب کرنے والوں کو دھمکانے اور ہراساں کرنے کی کوشش تھا ۔
دریں اثنا بظاہر انتقامی اقدام کرتے ہوئے سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سیکریٹری مقتدر اختر شبیر نے پاکستان بارکونسل کی ایگزیکٹو کمیٹی کے 7ارکان کی رکنیت معطل کردی جن میں چیئرمین حسن رضا پاشا، سید امجد شاہ، ریاضت علی سحر، محمد طارق آفریدی، محمد مسعود چشتی، محمد احسن بھون اور سید قلب حسن شامل ہیں، اس معاملے کو حتمی فیصلے کے لیے جنرل میٹنگ میں بھی بھیج دیا گیا ہے۔









