کسی کو افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت نہیں، افغان عبوری وزیر خارجہ

افغان عبوری وزیر خارجہ نے افغانستان میں لڑکیوں کی تعلیم کو غیر اسلامی قرار دیتے ہوئے اس پر پابندی لگانے کی تردید کی۔

افغانستان کے عبوری وزیر خارجہ امیر خان متقی نے واضح طور پر کہا ہے کہ ان کا ملک اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہونے دے گا۔

پیر کے روز اسلام آباد میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مہمان خصوصی امیر خان متقی نے افغانستان میں دہشت گرد گروپوں کی موجودگی سے متعلق پروپیگنڈے کو بے بنیاد قرار دیا۔

یہ بھی پڑھیے 

جسٹس مسرت ہلالی پشاور ہائی کورٹ کی پہلی خاتون چیف جسٹس بن گئیں

پیوٹ ٹو چائنا لیک کے بعد مشکلات بڑھ گئیں؛ امریکی عدم تعاون پر پاکستان مایوسی کا شکار

افغانستان کے عبوری وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ ’’ہم نے پاکستان اور تحریک طالبان پاکستان کے درمیان ملاقات کی سہولت فراہم کی۔ ہم ہر قیمت پر پاکستان میں امن چاہتے ہیں۔‘‘

امیر خان متقی نے اس بات کی بھی سختی سے تردید کی کہ ’’افغانستان نے لڑکیوں کی تعلیم کو غیر اسلامی قرار دے کر اس پر پابندی لگا دی ہے۔‘‘

امیر خان متفی کا کہنا تھا کہ ’’ہم نے ٹی ٹی پی کے حوالے سے اپنی ذمہ داری پوری کی۔ ہم نے حل تلاش کرنے کے لیے دونوں فریقین کو مذاکرات کی میز پر بٹھایا۔ ہم نے موجودہ اور سابقہ پاکستانی حکومتوں کے ساتھ ٹی ٹی پی پر بات کی۔‘‘

ان کا کہنا تھا کہ ’’موجودہ دورے کے دوران بھی پاکستانی حکام سے اس موضوع پر بات چیت ہوئی۔ افغان سرزمین پاکستان سمیت کسی بھی ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دی جائے گی۔‘‘

متقی نے پاکستان کے ساتھ شراکت داری بڑھانے کی خواہش کا بھی اظہار کیا۔ پاکستان اور افغانستان کو مسائل کے حل کے لیے لچک کا مظاہرہ کرنا ہو گا۔ دونوں ممالک کو مل کر روشن مستقبل کی طرف بڑھنا ہے۔

انہوں نے سامعین کو بتایا کہ ’’ریل، سڑک، راہداری کے منصوبوں میں مشترکہ سرمایہ کاری کرنا ہوگی۔‘‘

افغانستان کی عبوری حکومت کی کامیابیوں کا ذکر کرتے ہوئے افغان وزیر نے دعویٰ کیا کہ ’’پوری دنیا افغانستان کو تسلیم کر رہی ہے۔ ان کی مقامی کرنسی میں ڈالر کی شرح 130 روپے ہے۔‘‘

ان کا کہنا تھا کہ  ’’ہماری معیشت بھی پوری دنیا کی طرح دباؤ میں ہے۔ بین الاقوامی پابندیوں کے باوجود ہماری درآمدات اور برآمدات 6.8 بلین ڈالر تک پہنچ گئی ہیں۔‘‘

متعلقہ تحاریر