پاکستان کو 9 ویں جائزے کی کامیابی کیلیے اضافی فنانسنگ کی ضرورت ہے، آئی ایم ایف

پاکستان نے کراس سبسڈی پروگرام پر عمل درآمد نہ کرنے کا عہد کیا ہے ، حکومت نئی ٹیکس چھوٹ بھی متعارف نہیں کرائے گی اور روپے  کے لیے مارکیٹ پر مبنی طویل مدتی شرح مبادلہ کی  اجازت  دے گی ،ترجمان

وزیرخزانہ اسحاق ڈار کے دعوؤں کے برعکس آئی ایم ایف نےپاکستان کے بیل آؤٹ پیکیج کے  9ویں جائزے کی کامیاب تکمیل کیلیے اہم اضافی فنانسنگ کو ناگزیر قرار دے دیا۔

آئی ایم ایف نے کہا  ہےکہ پاکستان کو بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے بیل آؤٹ پیکیج کے طویل عرصے سے زیرالتوانویں جائزے کی کامیاب تکمیل کے لیے اہم اضافی فنانسنگ کی ضرورت ہے۔

یہ بھی پڑھیے

پاکستان کسی صورت ڈیفالٹ نہیں کرے گا عالمی تجزیہ کاروں کو منہ کی کھانا پڑے گی، اسحاق ڈار

مارچ کے مقابلے اپریل میں ترسیلات زر میں 32 کروڑ61لاکھ ڈالر کمی ریکارڈ

جمعرات کو آئی ایم ایف کی ترجمان جولی کوزیک نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ آئی ایم ایف کی جانب سے زیر التوا بیل آؤٹ فنڈز کے اجرا کی منظوری سے قبل”اہم اضافی فنانسنگ“ کے وعدوں کا حصول ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ ادائیگیوں کے توازن کے شدید بحران کو حل کرنے کے لیے پاکستان کے لیے فنڈز انتہائی اہم ہیں، پاکستان کے بیرونی شراکت داروں کی جانب سےاب تک   کی گئی مالی امداد کا خیرمقدم کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ ہماری ٹیم یقیناً پاکستانی حکام کے ساتھ بہت زیادہ مصروف ہے، کیونکہ پاکستان کو واقعی ایک بہت ہی مشکل  صورتحال کا سامنا ہے ۔

جولی کوزیک نے مزید کہا کہ پاکستان کی معیشت کو جمود کا سامنا ہے،اسکی  بہت زیادہ مالیاتی ضروریات ہیں اور شدید سیلاب سمیت کئی جھٹکوں سے بھی متاثر ہوئی ہے۔

آئی ایم ایف کی ترجمان نے بلومبرگ نیوز کو بتایا کہ پاکستان نے کراس سبسڈی پروگرام پر عمل درآمد نہ کرنے کا عہد کیا ہے۔آئی ایم ایف نے جمعرات کو بلومبرگ کو بتایا کہ حکومت نئی ٹیکس چھوٹ بھی متعارف نہیں کرائے گی اور روپے  کے لیے مارکیٹ پر مبنی طویل مدتی شرح مبادلہ کی  اجازت  دے گی ۔

واضح رہے کہ وزیرخزانہ اسحاق ڈار نے گزشتہ روز  میڈیا سے غیر رسمی بات چیت میں کہا تھا کہ  آئی ایم ایف نے معاہدہ کرنا ہے تو کرے، اگر نہیں کرنا چاہتا، تو نہ کرے لیکن ہم اس کے مطالبے پر مزید مشکل فیصلے نہیں کرسکتے۔

اسلام آباد میں  وزیرخزانہ اسحاق ڈار نے میڈیا سے غیر رسمی بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) نے جتنے پیشگی اقدامات کہے کرلیے، اب مزید نہیں کرسکتے۔

  وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا کہ مئی اور جون میں 3.7 ارب ڈالر کی بیرونی ادائیگوں کا پلان ہے،3.7 کی ادائیگیوں میں کوئی پریشانی نہیں، امید ہے چین پاکستان کا مزید 2.4 ارب ڈالر کا قرضہ رول اوور کر دے گا۔

متعلقہ تحاریر