عمران خان کی رہائی: وزیراعظم نے سپریم کورٹ کے فیصلے کو عدالتی ناانصافی قرار دے دیا
عدالتی فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے شہباز شریف نے کہا ہے کہ نواز شریف کے خلاف مقدمات درج ہونے پر ایسا ریلیف نہیں دیا گیا۔
وزیر اعظم شہباز شریف نے القادر ٹرسٹ کرپشن کیس میں عمران خان کو ریلیف فراہم کرنے پر سپریم کورٹ آف پاکستان کے حالیہ فیصلے پر سخت مایوسی کا اظہار کیا ہے۔ شہباز شریف نے فیصلے کو ‘عدالتوں کا دوہرا معیار’ قرار دیا ہے۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعہ کے روز وفاقی کابینہ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے عدالتی فیصلے پر اپنی خاموشی توڑتے ہوئے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کے دور حکومت میں مسلم لیگ ن اور دیگر جماعتوں کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا گیا۔
یہ بھی پڑھیے
جاوید لطیف کو آج بھی غیبی قوتوں کی حمایت عمران خان کے ساتھ دکھائی دینے لگی
ٹی ایل پی نے احتجاج کی تاریخ تبدیل کردی، 22 مئی کو احتجاجی قافلہ کراچی سے روانہ ہوگا
انہوں نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ جب مسلم لیگ (ن) کے سربراہ نواز شریف اور پارٹی کے دیگر ارکان کو گرفتار کیا گیا تو انہیں ناانصافیوں کا سامنا کرنے کے باوجود عدلیہ سے اس طرح کا ریلیف نہیں ملا۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ اس دوران نواز شریف کو درپیش شکایات کو کسی نے دور نہیں کیا۔
مزید برآں، وزیراعظم شہباز شریف نے 9 مئی کو پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان کی گرفتاری کے بعد پھوٹنے والے پرتشدد مظاہروں پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ 1971 میں سقوط ڈھاکہ کے بعد بھی ایسے مناظر دیکھنے میں نہیں آئے تھے۔
انہوں نے سابقہ واقعات کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ سابق وزیر اعظم بے نظیر بھٹو کی موت کے بعد مظاہرے ہوئے ، مگر کسی نے فوجی تنصیبات کو نشانہ نہیں بنایا اور نہ ہی سرکاری املاک کو نقصان پہنچایا۔
عمران خان کی جانب سے ان کی حکومت کا تختہ الٹنے کی سازش کے دعوے پر ردعمل دیتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ قومی سلامتی کمیٹی کے متعدد اجلاسوں میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا کہ یہ الزامات غلط ہیں۔









