عمران نیازی نے اپنے حواریوں  کو مخالفین کے گھروں کو آگ لگانا سکھایا، رانا ثناء اللہ

وفاقی وزیر داخلہ کا کہنا ہے کہ عمران نیازی ایک مخصوص مائنڈ سیٹ کے تحت کام کررہا ہے۔ جس کے اندر نفرت اور عناد بھرا پڑا ہے۔ عمران نیازی نے اوئے توئے کا کلچر دیا ہے۔

وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ عمران نیازی سیاستدان نہیں ایک فتنہ ہے ، اس کا مقصد ملک میں افراتفری پھیلانا ہے ، انارکی اور فساد پھیلانا ہے، اسی مقصد کی خاطر وہ ساری جدوجہد کررہا ہے ، 2014 سے بل العموم اور پچھلے ایک سال سے بل الخصوص نے ایک ایسا کلٹ (فرقہ) تیار کیا ہے جس کو آسانی سے پہچانا جاسکتا ہے یہ کوئی سیاسی جماعت نہیں ہے۔

ان خیالات کا اظہار وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔ ان کا کہنا تھا عمران نیازی ایک مخصوص مائنڈ سیٹ کے تحت کام کررہا ہے۔ جس کے اندر نفرت اور عناد بھرا پڑا ہے۔ عمران نیازی نے اوئے توئے کا کلچر دیا ہے۔ میں چھوڑوں گا نہیں کسی کو ، میں مار دوں گا ، وہ سرمایہ کاری جو اس نے عوام پر کی ہے ، وہ اب واضح ہونا شروع ہو گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیے 

آئن لائن ٹیکسی سروس کریم نے مسافروں کی آسانی کے لیے انٹرنیٹ کی بندش کا توڑ نکال لیا

عمران خان کی زمان پارک میں واپسی، عدالتی حکم پر 106 پولیس اہلکار سیکورٹی پر تعینات

رانا ثناء اللہ نے افسوس کا  اظہار کرتے ہوئے کہا کہ شہداء کی یادگاروں کو آگ لگانے میں کون سے سیاست ہے ، دفاعی تنصیبات پر حملہ کرنا کہاں کی سیاست ہے ، اپنے سیاسی مخالفین کے گھروں پر حملے کرنا ،یہ ہمارا سیاسی کلچر نہیں رہا۔ ہمارے ہاں سیاست میں جتنی بھی تلخی رہی ہے ، ن لیگ اور پی پی میں ایک وقت میں بہت اختلاف تھا ، لیکن وہ اور نہ ہم ان کے گھروں پر نہیں گئے۔ سیاست طور پر ایک دوسرے کے خلاف تندوتیز باتیں بھی کی گئیں ہیں۔ لیکن یہ مخصوص کلچر صرف اس فتنے نے پروان چڑھایا ہے۔

وزیر داخلہ کا کہنا تھا عمران خان نے اپنے حواریوں کو سکھایا ہے کہ آپ اپنے مخالفین کے گھروں پر جائیں اور ان پر حملے کریں۔ کون سیاسی ورکرز ہوسکتا ہے کہ جو یہ کرے کہ ایمبولینس سے مریضوں کو نکالے اور ایمبولینس کو آگ لگا دے۔ یہ کہاں کی سیاست ہے کہ آپ اسکولز، ریڈیو پاکستان کی بلڈنگ ، مویشی منڈی کو آگ لگا دیں۔ مویشی منڈی کو پہلے لوٹا گیا پھر آگ لگا دی گئی۔ جو لوگ دوسروں کے گھروں کو آگ لگا رہے ہیں ، میں پوچھتا ہوں کہ ان لوگوں کے گھر خلاء میں ہیں۔ ان کے گھر بھی یہیں ہیں۔ ان کے گھروں میں بھی خواتین اور بچے بھی ہیں۔ عمران نیازی قوم کو کس طرف دھکیلنا چاہتا ہے۔

رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا آج کی پریس کانفرنس میں جو فیکٹس اینڈ فگرز پیش کررہا ہوں وہ تصدیق شدہ ہیں۔ ان رپورٹس کو اگر کوئی چیلنج کرنا چاہے تو میں وہ چیلنج قبول کرنے کو تیار ہوں۔

ان کا کہنا تھا 9 ، 10 اور 11 مئی کو جو کچھ ہوا اس کا سارا ڈیٹا میرے پاس ہے۔ اسلام آباد ، پنجاب ، خیبر پختونخوا ، سندھ ، گلگت بلتستان ،  بلوچستان ، اے جے کے اور جی بی میں جو کچھ ہوا وہ سارا ڈیٹا موجود ہے۔ اسلام آباد ، پنجاب اور کےپی میں سب سے زیادہ نقصان ہوا۔

9 مئی کو اسلام آباد کے 12 مقامات پر احتجاج ہوا۔ ان احتجاجوں میں ساڑے 6 سو سے 7 سو تک لوگ شریک ہوئے۔

9 مئی کو پنجاب کے 221 مقامات پر احتجاجی مظاہرے ہوئے۔ ان مظاہروں میں 15 سے 18 ہزار کے قریب شریک ہوئے۔

9 مئی کو خیبر پختونخوا میں 126 مقامات پر پرتشدد واقعات رونما ہوئے۔ ان پرتشدد مظاہروں میں 19 سے 22 لوگوں نے شرکت کی۔

10 مئی کو اسلام آباد کے 11 مقامات پر مظاہرین نے مظاہرے کیے۔ پنجاب میں 33 مقامات پر احتجاجی مظاہرے کیے گئے۔ خیبر پختونخوا میں 85 مقامات پر احتجاجی مظاہرے ہوئے۔

11 مئی کو اسلام آباد میں 4 مقامات پر احتجاجی مظاہرے کیے گئے۔ پنجاب میں 12 جگہوں پر احتجاجی مظاہرے ہوئے۔ اور کےپی میں 85 کے مقابلے میں 39 جگہوں پر احتجاجی مظاہرےہوئے۔

9 مئی کو پورے پاکستان میں 40 سے 45 ہزار لوگ احتجاجی مظاہروں کے لیے نکلے تھے۔ 10 مئی کو 19 سے 20 ہزار کے قریب لوگ باہر نکلے اور 11 مئی کو 6 ہزار سے 7 ہزار کے قریب لوگ گھروں سے نکلے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ عوامی ردعمل نہیں تھا لیکن یہ ٹرینڈ دہشتگرد تھے۔ ان دہشتگردوں کی ٹریننگ یہ فتنہ پچھلے ایک سال سے کرا رہا تھا۔ ان کی لسٹیں بن رہی تھیں ان کو ٹریننگ دی جاری تھی۔ ان کو پیٹرول بم  بنانے کے طریقے سکھائے گئے۔ مخصوص غلیلیں بنائی گئیں  اور پورے پاکستان میں تقسیم کی گئیں۔ یہ پروٹیسٹ نہیں تھا بینکوں کو لوٹا گیا۔

رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا کہ جناح ہاؤس کو آگ لگائی تو وہاں سے ایک ایک چیز کو لوٹ لیا گیا ، کپڑے تک لوٹ لیے گئے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ بڑے افسوس کی بات ہے وہ آدمی جس نے 60 ارب روپے قوم کے لوٹے ہیں ، اور اس کی لوٹ مار کا لکھا پڑھا ثبوت ہے ، وہ کہہ بھی نہیں سکتا کہ میں نے یہ نہیں لوٹا۔ بزنس ٹائیکون ملک ریاض نے غیرقانونی سے 190 ملین پاؤنڈ برطانیہ منتقل کیے تھے وہ سارے پیسے حکومت پاکستان کے خزانے میں آنے تھے ، مگر وہ پیسے واپس ملک ریاض کو چلے گئے اور اس کے بدلے میں سوہاوہ کے مقام پر 458 کینال اراضی لے لی گئی اور 240 کینال اراضی بنی گالہ  میں لے لی گئی۔ سوہاوہ کی زمین القادر ٹرسٹ کے نام سے رجسٹرڈ کرائی گئی ، جس کے ٹرسٹی عمران نیازی اور اس کی اہلیہ بشریٰ بی بی ہیں۔ بنی گالہ میں جو زمین خریدی گئی وہ فرح گوگی کے نام پر خریدی گئی۔

متعلقہ تحاریر