ایک سال میں پیٹرولیم سیکٹر کے گردشی قرضے میں 500 ارب کا اضافہ ہوا، سیکریٹری پیٹرولیم

سیکرٹری پٹرولیم کا کہنا ہے کہ گیپگو اور نندی پور پاور پلانٹ پی ایس او کو دے گردشی قرضہ کلیئر کیا جائے گا۔

وزارت پیٹرولیم اور آڈٹ حکام نے پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے سامنے گردشی قرضوں کی تفصیلات پیش کردیں۔ سیکریٹری پیٹرولیم کا کہنا ہے کہ پٹرولیم سیکٹر کے گردشی قرضے میں 1 سال کے دوران 5 سو ارب سے زائد کا اضافہ ہوا ہے۔

چئیرمین کمیٹی نور عالم خان کی زیرصدارت پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا اجلاس کا اجلاس ہوا۔ سیکریٹری پیٹرولیم نے انکشاف کرتے ہوئے بتایا کہ پٹرولیم سیکٹر کا گردشی قرضہ 12 سو ارب سے بڑھ کر 17 سو ارب تک پہنچ گیا ہے۔ پٹرولیم سیکٹر کا گردشی قرضہ ختم کرنے کیلئے ایسٹ سوائپ کا فیصلہ کیا جا رہا۔

یہ بھی پڑھیے

محمد علی ٹبا ملک میں رائج  نظام  حکومت سے مایوس، ہائبرڈ نظام سے امیدیں لگالیں

اسٹاک مارکیٹ میں مثبت رجحان؛ انٹر بینک میں ڈالر سستا مگر اوپن مارکیٹ میں مہنگا ہوگیا

سیکرٹری پٹرولیم کا کہنا تھا کہ گیپگو اور نندی پور پاور پلانٹ پی ایس او کو دے گردشی قرضہ کلیئر کیا جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ وزارت خزانہ اور وزارت توانائی پٹرولیم سیکٹر کا گردشی قرضہ ختم کرنے کیلئے فیصلہ کیا ہے۔ گیس ٹیرف میں اضافہ کرنے سے گیس کا سالانہ اڑھائی سو ارب کا گردشی قرضہ روک دیا۔

سیکریٹری پیٹرولیم کا کہنا تھا کہ بائیکو کمپنی 57 ارب سے زائد کی ڈیفالٹ ہے ، مالک کو گرفتار کرنے کی ہدایت کردی گئی ہے۔ ایف بی آر، اسٹیٹ بنک بائیکو کمپنی سے ریکوری کرنے میں ناکام ہیں۔

چیئرمین پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نور عالم کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کا خاص بندہ بھی بائیکو کمپنی سفارش کرے تو نہیں چھوڑا جائے گا۔

نور عالم خان نے پی اے سی کی جانب سے بائیکو کمپنی اور کمپنی مالک کی تمام جائیداد ضبط کرنے کی ہدایت کردی۔

پی اے سی کو بریفنگ دیتے ہوئے ایف آئی اے حکام کا کہنا تھا کہ بائیکو کمپنی سے ڈائریکٹر ایف آئی اے کراچی نے 3.9 ارب میں ڈیل کی، ڈائریکٹر ایف آئی اے کراچی نے خلاف ضابطہ کمپنی سے ڈیل کی جس پر ان کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے۔

پی اے سی کو بریفنگ دیتے ہوئے آڈٹ حکام کا کہنا تھا کہ نومبر 2021 تک پٹرولیم سیکٹر کا زیر گردش قرضہ 1270 ارب روپے تھا۔ نومبر 2021 میں گیس کے شعبے کا سرکلر ڈیٹ 938 ارب روپے سے زائد کا تھا جبکہ نومبر 2021 تک ریفائنریز کا سرکلر ڈیٹ 52 ارب 62 کروڑ روپے تھا۔

متعلقہ تحاریر