صنعتوں کا پہیہ رکنے سے  کھپت میں کمی،تیل کی برآمدات میں ریکارڈ اضافہ

پاکستان میں ڈیزل کا ذخیرہ ریفائنریوں کی گنجائش سے 7 فیصد زیادہ ہے، اس بار گرمی کا موسم پچھلے سال کی طرح خراب نہیں ہوگا، فصیح منگی: سوئی ناردرن نے کھپت میں کمی کے باعث کمپنیوں کو گیس کی فروخت کی کوششیں تیز کردیں، علی خضر

ملک میں جاری معاشی وسیاسی بحران کے پیش نظر صنعتوں کا پہیہ رکھنے سے کھپت میں بڑی کمی کے باعث تیل و گیس کے ذخائر بھر گئے۔گزشتہ ماہ بطور ایندھن استعمال ہونے والے تیل کی برآمدات میں ریکارڈ اضافہ ہوا ہے۔

ریفائنریزمیں تیل ذخیرہ کرنے کی گنجائش ختم ہونے لگی، ہمیشہ گیس کی تنگی کاشکار رہنے والی سوئی ناردرن گیس کمپنی نے    پہلی بار صنعتوں کو گیس کی فروخت کی کوششیں شروع کردیں۔

یہ بھی پڑھیے

ایک سال میں پیٹرولیم سیکٹر کے گردشی قرضے میں 500 ارب کا اضافہ ہوا، سیکریٹری پیٹرولیم

محمد علی ٹبا ملک میں رائج  نظام  حکومت سے مایوس، ہائبرڈ نظام سے امیدیں لگالیں

بلوم برگ سے وابستہ پاکستانی صحافی فصیح منگی نے اس حوالےسےاپنے ٹوئٹر تھریڈ  لکھا ہے کہ گزشتہ ماہ پاکستان سے تیل کی برآمدات میں ریکارڈ اضافہ ہواہے،پاکستان عام طور پر ایک درآمد کنندہ رہا ہے۔

انہوں نے وزیر توانائی خرم دستگیر  کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ ملک میں بجلی کی کھپت  ایک سال پہلے کی سطح سے بہت نیچے ہے، اس کی وجہ کیا ہے؟ ٹھنڈا موسم، زیادہ ٹیرف اور معاشی بدحالی  ،ذخائر بھر رہے  ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ پاکستان میں ڈیزل کا ذخیرہ ریفائنریوں کی گنجائش سے 7 فیصد زیادہ ہے، اٹک ریفائنری نے ڈیزل کے شدید ذخیرے کی وجہ سے اپنا مرکزی یونٹ بند کر دیا۔

فصیح منگی نے بتایا کہ  بجلی کی مجموعی پیداوار میں ایندھن کے تیل پر مبنی بجلی کا حصہ مارچ میں گھٹ کر 0.5 فیصد رہ گیا ہے جو پچھلے سال کے اسی مہینے میں تقریباً 11 فیصد تھا،پاکستان کی بجلی کی پیداوار میں اس سال 16 فیصد کمی ہوئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس بات کا روشن پہلو یہ ہے کہ  پاکستان میں گرمیوں کا موسم پچھلی بار کی طرح خراب نہیں ہو گا کیونکہ بجلی کی پیداوار میں کمی سے ایندھن بچالیا گیا ہے ۔

دوسری جانب  ماہر معیشت اور صحافی علی خضر  نےکہا ہے کہ پٹرول اور ڈیزل کی طرح قدرتی گیس کی طلب میں بھی کمی آرہی ہے،سوئی ناردرن گیس کمپنی لمیٹڈ(ایس این جی پی ایل) صنعت کاروں کو گیس فروخت کرنے کی کوشش کر رہا ہے  حالانکہ کمپنی کو ایسی مصنوعات فروخت کرنے کا کوئی تجربہ نہیں ہے جس کی ہمیشہ کمی کا سامنا رہا ہے ۔

متعلقہ تحاریر