امریکی رپورٹ میں عمران خان کیخلاف حکومت کے مذہب کارڈ کے استعمال کی مذمت

پاکستان میں توہین مذہب کے واقعات مذہبی آزادی کے لیے بڑا خطرہ بنے ہوئے ہیں، رپورٹ میں عمران خان کیخلاف لیگی رہنما جاوید لطیف اور مولانا فضل الرحمان کے عمران خان پر عائد کردہ الزامات کا خاص طور پر حوالہ دیا گیا۔

عالمی مذہبی آزادی سے متعلق سالانہ امریکی رپورٹ میں  پی ڈی ایم حکومت کی جانب سے ایک مرتبہ پھر سابق وزیر اعظم پاکستان عمران خان کے خلاف ’توہین مذہب کارڈ‘ استعمال کرنے  پر شدید تنقید کی گئی ہے۔

روزنامہ ڈان کے مطابق عالمی مذہبی آزادی سے متعلق واشنگٹن میں جاری ہونے والی امریکی رپورٹ 2022 کے دوران پیش آنے والے واقعات کا احاطہ کرتی ہے، اس میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ برس کئی سیاسی رہنماؤں نے اپنے سیاسی حریفوں پر حملہ کرنے کے لیے اشتعال انگیز مذہبی لہجے کا استعمال کیا۔

یہ بھی پڑھیے

امریکا اور یورپی یونین کا عمران خان کی گرفتاری پر ردعمل

یورپی یونین عمران خان کو حکومت سے محاذ آرائی روکنے پر آمادہ کرے، کرائسز گروپ

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 13 ستمبر کو رہنما پاکستان مسلم لیگ (ن) جاوید لطیف نے ایک پریس کانفرنس کے دوران سابق وزیر اعظم عمران خان پر الزام عائد کیا کہ وہ بطور وزیراعظم اسلام کے بنیادی اصولوں پر حملہ کر رہے ہیں۔

رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ سربراہ جے یو آئی (ف) مولانا فضل الرحمٰن نے 7 ستمبر کو اپنی ٹوئٹس میں عمران خان کو ’یہودی ایجنٹ‘ قرار دیا تھا۔رپورٹ کے مطابق تحریک انصاف کے رہنماؤں نے ان دعوؤں کے ردعمل میں حکومت پر مذہبی تعصب اور نفرت پھیلانے کا الزام عائد کیا۔

یو ایس کمیشن برائے عالمی مذہبی آزادی (یو ایس سی آئی آر ایف)   نے یکم مئی کو جاری ہونے والی اپنی ابتدائی رپورٹ میں بھی اس مسئلے کو اٹھایا تھا۔اس رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ 2022 میں وزیر اعظم شہباز شریف کی قیادت میں برسر اقتدار آنے والی حکومت نے توہین مذہب کے قانون کو سابق وزیر اعظم عمران خان اور ان کے ارکان کے خلاف ہتھیار کے طور پر استعمال کیا۔

یہ معاملہ بعد ازاں ایک نیوز بریفنگ کے دوران بھی اس وقت دوبارہ زیر بحث آیا جب ایک صحافی نے امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان ویدانت پٹیل کو یاد دلایا کہ توہین مذہب کے الزامات کے نتیجے میں عمران خان پر قاتلانہ حملہ کیا گیا اور سوال پوچھا کہ کیا امریکا، توہین مذہب کے قوانین کے غلط استعمال سے متعلق اپنے تحفظات سے پاکستانی حکومت کو آگاہ کرے گا؟

ویدانت پٹیل نے کہا کہ ہم ایسے قوانین کی سختی سے مخالفت کرتے ہیں جو کسی بھی فرد کی قومی شناخت سے قطع نظر اسے کسی عقیدے کا انتخاب کرنے، کسی عقیدے پر عمل کرنے، اپنا مذہب تبدیل کرنے یا کسی بھی مذہب پر عمل پیرا نہ ہونے کے اختیار میں رکاوٹ ڈالتے ہیں۔

رپورٹ میں نشاندہی کی گئی کہ پاکستان میں توہین مذہب کے واقعات مذہبی آزادی کے لیے بڑا خطرہ بنے ہوئے ہیں اور اسی طرح ہجوم کے ہاتھوں تشدد کا بھی معاملہ ہے جو طویل عرصے سے اس طرح کے الزامات کے ساتھ دیکھنے میں آرہا ہے۔

رپورٹ کے مطابق پاکستان میں پولیس متعدد بار قتل، جسمانی بدسلوکی، یا مذہبی اقلیتوں کے ارکان کو تحفظ فراہم کرنے میں ناکام رہی ہے، عدالتوں کی جانب سے توہین مذہب کے قوانین کو نافذ کیا جاتا رہا ہے جس کی سزا موت ہے، تاہم حکومتِ پاکستان نے توہین مذہب کے الزام میں کبھی کسی کو پھانسی نہیں دی۔

سول سوسائٹی کی مختلف تنظیموں کی رپورٹس کا حوالہ دیتے ہوئے اس رپورٹ میں کہا گیا کہ 2022 کے دوران کم از کم 52 افراد پر توہین مذہب یا اس سے جڑے الزامات عائد کیے گئے، گزشتہ چند برسوں کے دوران توہین مذہب کے ارتکاب کے الزام میں کم از کم 4 افراد کو 2022 میں موت کی سزا سنائی گئی، ان میں 2 لوگ عیسائی اور 2 مسلمان تھے۔

2022 میں عدالتوں نے توہین مذہب کے الزام میں چند افراد کو سنائی گئی سزاؤں کو اپیل پر ختم کر دیا تھا اور کچھ ایسے افراد کو بری یا ضمانت دے دی جنہوں نے توہین مذہب کے الزام میں برسوں جیل میں گزار دیے تھے۔

متعلقہ تحاریر