قطر کے شیخ جاسم نے مانچیسٹر یونائیٹڈ کے لیے مزید بڑی بولی دے دی

شیخ جاسم نے کلب پر 100 فیصد کنٹرول کے لیے کلب پر واجب الاعداد 1.2 بلین ڈالر کا قرض ختم کرنے کا بھی وعدہ کرلیا ہے۔

قطری بینکر شیخ جاسم بن حمد الثانی نے مانچسٹر یونائیٹڈ کو مکمل طور پر کنٹرول میں لانے کے لیے مزید بہتر بولی لگائی ہے۔

بِڈ (bid) انتظامیہ کے ایک ذرائع نے بین الاقومی نشریاتی ادارے (اے ایف پی) کو بتایا ہے کہ شیخ جاسم برطانوی ارب پتی جم ریٹکلف کے ساتھ بولی کی جنگ میں شامل ہیں۔

یہ جوڑی پریمیئر لیگ کے ٹیموں کو خریدنے کے لئے اہم دعویدار کے طور پر ابھری ہے۔ پچھلے مہینے جب بولی کا تیسرا دور بند ہوا تو Ratcliffe سب سے زیادہ بولی دی تھی۔

یہ بھی پڑھیے

نجم سیٹھی پاک بھارت سیریز کیلئے نیوٹرل وینیو پر رضامند، سدنی مارننگ ہیرالڈ کا دعویٰ

وزیراعظم نے کوہ پیما نائلہ کیانی کو ستارہ امتیاز سے نوازنے کی منظوری دیدی

INEOS کیمیکل کمپنی کے بانی Ratcliffe، جو لڑکپن سے مانچیسٹر یونائیٹڈ کے پرستار ہیں، نے جان بوجھ کر کلب کی زیادہ قیمت رکھی تھی تاکہ اس کے شیئر کو اکثریتی لوگوں کا حصہ دار بناسکیں۔

جم ریٹکلف مانچیسٹر یونائیٹڈ کو اس وقت خریدنے کی پوزیشن میں ہوں جب ان کی کمپنی کے  معاون خصوصی اور شریک چیئرمین ایورام اور جوئل گلیزر سرمایہ کاری کرنے کی اجازت دیں گے۔ جبکہ انہیں اس بات کا اچھی سے ادراک ہے کہ کلب اپنی سپورٹرز میں اپنی مقبولیت کھو رہا ہے۔

اس کے برعکس، شیخ جاسم کی بولی کلب کے 100 فیصد کنٹرول کے لیے ہے اور اس نے یونائیٹڈ کے £970 ملین ($1.2 بلین) کے قرض کو ختم کرنے کا وعدہ کیا ہے۔

گلیزرز نے 2005 میں 790 ملین پاؤنڈ میں مانچیسٹر یونائیٹڈ کو ٹیک اوور کیا تھا تاہم کلب شائقین کے اعتماد کو جیتنے میں ناکام رہا۔

دوسری جانب کلب میں 20، 20 فیصد حصص کے مالک ایورم اور جوئل گلاسزر نے تخمینہ لگاتے ہوئے بتایا ہے کہ مانچسٹر یونائیٹڈ کی موجودہ قیمت 6 بلین یورو (پاکستانی روپوں میں 18 کھرب 94 ارب سے زائد) ہے۔

مانچسٹر یونائیٹڈ سپورٹرز ٹرسٹ (مسٹ) نے موسم گرما کے دوران کلب کی منتقلی کو روکنے کے لیے اس عمل کو فوری طور پر ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

Glazers کے دور میں میدان میں یونائیٹڈ کی قسمت خراب رہی ہے۔ ایک دہائی قبل سابق مینیجر ایلکس فرگوسن کے ریٹائر ہونے کے بعد سے انہوں نے پریمیئر لیگ کا ٹائٹل نہیں جیتا ہے۔

تاہم مانچیسٹر یونائیٹڈ نے اس سیزن کے شروع میں مینیجر ایرک ٹین ہیگ کی قیادت میں چھ سال کے طویل عرصے کے بعد لیگ کی ٹرافی جیتی ہے۔

متعلقہ تحاریر