زمان پارک میں متوقع سرچ آپریشن: حکومت اور عمران خان کے درمیان ڈیڈ لاک برقرار
حکومت نے عمران خان کے گھر زمان پارک میں تلاشی کے لیے گھر کے افراد کو باہر نکالنے کی شرط رکھ دی ہے جبکہ چیئرمین تحریک انصاف نے حکومت کی یہ شرط تسلیم کرنے سے انکار کردیاہے۔
پنجاب پولیس اور انتظامیہ کو زمان پارک میں سرچ آپریشن کی اجازت نہ ملی ، کمشنر لاہور کی سربراہی میں ٹیم نے 2200 افراد پر مشتمل فہرست عمران خان کے حوالے کردی، چیئرمین تحریک انصاف نے زمان پارک میں دہشتگردوں کی موجودگی کی باتوں کو بےبنیاد قرار دیتے ہوئے سرچ آپریشن کی اجازت دینے سے انکار کردیا، ان کا کہنا ہے گھر کے افراد کی موجودگی میں سرچ آپریشن کیا جاسکتاہے۔
گذشتہ روز جیو نیوز کے پروگرام "نیا پاکستان” میں گفتگو کرتے ہوئے نگراں وزیر اطلاعات عامر میر کا کہنا تھا کہ کمشنر لاہور کی سربراہی میں جانے والی ٹیم زمان پارک میں سرچ آپریشن کے لیے نہیں گئے ، وہ سرچ آپریشن کے لیے شرائط طے کرنے گئے تھے۔ کیونکہ ہم نے نہیں چاہ رہے تھے کہ کوئی بڑا قدم اٹھایا جائے۔
یہ بھی پڑھیے
جہانگیر ترین نے 9 مئی کو جناح ہاؤس میں توڑ پھوڑ کی ذمہ دار پی ٹی آئی پر ڈال دی
جناح ہاؤس پر حملہ کروانے والے کون تھے؟ لطیف کھوسہ نے بتادیا
ان کا کہناتھا کمشنر لاہور اور دو سینئر افسران نے ڈیڑھ گھنٹے تک طویل ملاقات کی۔ مذاکرات کے دوران خان صاحب کو کور کمانڈر ہاؤس اور دیگر عسکری تنصیبات پر حملے کرنے افراد کے نام دیئے گئے۔ لیکن سرچ آپریشن کے حوالے سے کوئی اتفاق نہیں ہوپایا۔
عامر میر کا کہنا تھا کہ سرچ آپریشن کے حوالے سے ڈیڈلاک آگیا کیوں کہ کچھ ان کی جانب سے شرائط تھیں کچھ حکومت کی جانب سے شرائط رکھی گئی تھیں۔
"زمان پارک کی تلاشی پر عمران خان سے اتفاق نہیں ہوسکا۔ ڈیڈلاک آگیا ہے۔ عمران کو2200لوگوں کی فہرست دی ہے۔ حسان نیازی، زبیر نیازی،مرادسعید،اعظم سواتی اورحماداظہر مطلوب افراد ہیں۔"
نگران وزیراطلاعات پنجاب عامر میر
— Shahzad Iqbal (@ShahzadIqbalGEO) May 19, 2023
ایک سوال کے جواب میں عامر میر کا کہنا تھا کہ خان صاحب چاہتے تھے کہ چار پولیس والے آئیں اور شرچ آپریشن کرلیں۔ خان صاحب نے کہا جن لوگوں کی فہرست آپ نے مجھے دی ہے یہ لوگ میرے پاس نہیں ہیں۔
عامر میر کا بات کرتے ہوئے مزید کہنا تھا حکومت ٹیم نے عمران خان کو بتایا کہ آپ کے گھر کے باہر سے جن 14 مشتبہ افراد کو گرفتار کیا گیا ہے ان سب نے اقرار کیا ہے کہ زمان پارک سے لوگوں کی بڑی تعداد آس پاس کے گھروں میں شفٹ ہو گئی ہے۔ جس کی وجہ سے ہم سرچ آپریشن کرنا چاہتے ہیں ، اور اگر وہاں سے مزید بندے نکلنے تو ہمیں انہیں گرفتاری کے وقت مزاحمت کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
دوسری جانب چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے زمان پارک میں سرچ آپریشن کے لیے شرائط رکھ دی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ہم گھر کی تلاشی نہیں دے سکتے ، پچھلی بار بھی شرچ آپریشن کے نام پر گھر میں توڑ پھوڑ کی گئی۔
عمران خان کا کہنا تھا کہ اگر گھر کے افراد باہر آجائیں گے تو سرچ آپریشن والوں نے کوئی بگنگ ڈیوائس لگا دی اور گھر اندر ہونے والے گفتگو کو ریکارڈ کرلیا گیا تو کون ذمے دار ہوگا۔ سرچ آپریشن کے نام پر گھر سے اسلحہ برآمد کرلیا تو کون جواب دے گا۔
عمران خان کا کہنا تھا اگر حکومتی ٹیم کے پاس ثبوت ہیں تو دیں ، کوئی پی ٹی آئی کارکن جلاؤ گھیراؤ میں ملوث ہوا تو خود اس کی گرفتاری میں مدد دیں گے۔
ادھر پنجاب کے نگراں وزیر اطلاعات عامر میر کے بھائی سینئر صحافی اور اینکر پرسن حامد میر نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹ پر زمان پارک سے گرفتار ہونے والے افراد کی ویڈیو شیئر کرکے "نگراں وزیر اطلاعات عامر میر” کے دعوے کا بھانڈا پھوڑ دیا ہے۔
یہ ہیں وہ 8 مبینہ دہشت گرد جنہیں زمان پارک لاہور سے گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا گیا ان سب کا دعویٰ ہے وہ کوٹ لکھپت جیل میں قید تھے اور انہیں جیل سے نکال کر زمان پارک سے گرفتاری ڈالی گئی سب کے ہاتھوں پر جیل کی مہریں بھی نظر آ رہی ہیں، جھوٹ کے پاؤں نہیں ہوتے اور جھوٹ آخر پکڑا جاتا ہے pic.twitter.com/JMeRI2sDvs
— Hamid Mir حامد میر (@HamidMirPAK) May 19, 2023
سینئر اینکر پرسن حامد میر نے لکھا ہے کہ "یہ ہیں وہ 8 مبینہ دہشت گرد جنہیں زمان پارک لاہور سے گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا گیا ان سب کا دعویٰ ہے وہ کوٹ لکھپت جیل میں قید تھے اور انہیں جیل سے نکال کر زمان پارک سے گرفتاری ڈالی گئی سب کے ہاتھوں پر جیل کی مہریں بھی نظر آرہی ہیں۔”
اینکر پرسن حامد میر نے مزید لکھا ہے کہ "جھوٹ کے پاؤں نہیں ہوتے اور جھوٹ آخر پکڑا جاتا ہے۔”









