چین کا جی 20 کانفرنس شریک نہ ہونے کا فیصلہ؛ سعودیہ و ترکیہ کا عدم شرکت کا عندیہ

چینی حکومت نے بھارت کو سخت پیغام دیتے ہوئے متنازع وادی کشمیر میں جی 20 کانفرنس میں شریک نہ ہونے کا فیصلہ کیا ، چینی حکام نے کہا کہ متنازع علاقے میں کانفرنس کی سخت مخالفت کرتے ہیں جبکہ سعودیہ و ترکیہ نے بھی  تاحال  شرکت کا عندیہ نہیں دیا

چین  نے بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں ہونے والے جی 20 اجلاس میں شرکت نہ کرنے کا اعلان کردیا جبکہ سعودی عرب، ترکی  سمیت کئی ممالک نے تاحال اپنی شرکت کی یقین دہانی نہیں کروائی ۔

چینی وزارت خارجہ کے ترجمان وانگ وین بن نے کہا ہے کہ بھارت  کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں جی 20 اجلاس میں شریک نہیں ہونگے جبکہ سعودی عرب اور ترکی  نے بھی اب تک یقین دہانی نہیں کروائی ۔

یہ بھی پڑھیے

چین اور پاکستان کی مخالفت کے باوجود مودی سرکار جی 20 سمٹ سری نگر میں کرانے پر بضد

انٹرنیشنل پریس سینٹر (آئی پی سی) میں پریس بریفنگ کے دوران چینی وزارت خارجہ کے ترجمان وانگ وین بن نے کہاکہ چین متنازعہ علاقوں میں جی 20 اجلاس کے انعقاد کی سختی سے مخالفت کرتا ہے۔

بھارت نے چینی اعتراض پر ایک بار پھر متنازع وادی کو سرزمین قرار دیا اور کہا کہ  انڈیا اپنی سرزمین پر اجلاس منعقد کرنے کے لیے آزاد ہے۔بھارتی حکام نے چین سے معمول کے تعلقات کا اعادہ بھی کیا ہے ۔

پریس ٹرسٹ آف انڈیا (پی ٹی آئی )  کی ایک رپورٹ کے مطابق بھارتی  وزارت خارجہ حکام نے کہا کہ چین کے ساتھ معمول کے تعلقات کے لیے اس کی سرحد پر امن  و امان اور سکون  انتہائی ضروری ہے۔

دوسری جانب سے ترکی اور سعودی عرب نے بھی تاحال سرکاری سطح پر جی 20 کانفرنس میں شرکت کی یقین دہانی نہیں کروائی گئی ۔پاکستان کی جانب سے  کشمیر میں جی 20 کانفرنس کی شدید مذمت کی گئی تھی ۔

یہ بھی پڑھیے

سری نگر میں جی 20 اجلاس؛ پاکستان کی بھارتی اقدام کی شدید مذمت

چین ،سعودی عرب اور ترکی نے جی 20 ٹورازم ورکنگ گروپ کی میٹنگ سے آغاز سے قبل تک رجسٹریشن نہیں کروائی جبکہ شیر کشمیر انٹرنیشنل کنونشن سینٹر میں 22  سے 24 مئی تک کانفرنس ہونی ہے ۔

یاد رہے کہ  جی 20 ممالک  میں چین ، بھارت، ارجنٹائن،آسٹریلیا، کینیڈا، فرانس، جرمنی، انڈونیشیا، اٹلی، جاپان، جنوبی کوریا، میکسیکو، روس، جنوبی افریقہ، ترکی، برطانیہ اور امریکہ، اور یورپی ممالک شامل ہیں۔

متعلقہ تحاریر