آڈیو لیک کمیشن : چیف جسٹس کے اٹارنی جنرل سے بینچ پر اعتراضات سے متعلق دلائل طلب

وفاقی حکومت اور تین رکنی آڈیو لیکس انکوائری کمیشن نے سپریم کورٹ کے بینچ پر اعتراضات اٹھائے تھے۔

سپریم کورٹ میں آڈیو لیکس انکوائری کمیشن کے خلاف درخواستوں پر سماعت ہوئی ہے ، چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجر بینچ نے درخواستوں کی سماعت کی۔

وفاقی حکومت اور آڈیو لیکس انکوائری کمیشن نے سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ میں سے چیف جسٹس سمیت تین ججز پر اعتراضات اٹھائے تھے۔

وفاقی حکومت اور آڈیو لیکس انکوائری کمیشن کی جانب سے چیف جسٹس آف پاکستان عمر عطا بندیال، جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس منیب اختر پر بھی اعتراضات اٹھائے گئے۔

سماعت

سماعت کے آغاز پر چیف جسٹس بندیال نے بینچ پر حکومتی اعتراضات کا جواب دیتے ہوئے اٹارنی جنرل منصور عثمان سے کہا کہ آپ ایک چیز یاد کر رہے ہیں کہ چیف جسٹس آف پاکستان آئینی عہدہ ہے۔

یہ بھی پڑھیے 

پنجاب حکومت کی ڈاکٹر یاسمین راشد کی بریت لاہور ہائی کورٹ میں چیلنج کردی

لاہور ہائیکورٹ راولپنڈی بینچ کا شاہ محمود قریشی کو فوری رہا کرنے کا حکم

چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیئے کہ مرکز نے انہیں بتائے بغیر آڈیو لیکس کی انکوائری کے لیے کمیشن تشکیل دے دیا۔

چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل آف پاکستان کو ہدایت کی کہ وہ مذکورہ بالا نکات پر دلائل دیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ عدالتی فیصلوں کے حوالے پڑھنے سے پہلے قانون کو سمجھیں۔

جس پر اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان نے استدلال کیا کہ "وہ پہلے بینچ کی تشکیل پر دلائل دیں گے۔”

چیف جسٹس بندیال نے سوال کیا کہ کیا آپ یہ دلائل دیں گے کہ 5 میں سے 3 ممبران متنازعہ ہیں اور پھر آپ کو بتانا ہوگا کہ آپ نے کس بنیاد پر 3 ججز کو متنازعہ بنایا ہے؟

چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ’’میں چاہوں گا کہ آپ دیگر اہم مسائل پر توجہ دیں، کیونکہ دوسرا مسئلہ عدلیہ کی آزادی کا ہے۔‘‘

اٹارنی جنرل نے آڈیو لیکس کمیشن کے ٹی او آرز پڑھ کر سنائے اور عدالت عظمیٰ کو بتایا کہ لیک ہونے والی آڈیوز میں سے ایک چیف جسٹس کی ساس سے متعلق ہے۔

جس پر چیف جسٹس عمر عطا بنیدل نے ریمارکس دیئے کہ اس وقت آپ کا کیس یہ ہے کہ آڈیوز پہلی نظر میں مستند ہیں؟ اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ کمیشن بنانے کا مقصد آڈیو لیکس کی تحقیقات کرنا تھا۔

اس دوران جسٹس منیب نے ریمارکس دیئے کہ اگر معاملے کی تصدیق نہیں ہوئی تو لیکس پر وزراء نے پریس ٹاک کیوں کی؟۔ یہ اچھا اقدام نہیں تھا حالانکہ پریسر کے دوران آڈیو لیکس چلائی جاتی تھیں۔

اٹارنی جنرل نے کہا کہ مجھے نہیں معلوم کہ کسی نے پریس کانفرنس کی۔

جسٹس منیب نے ریمارکس دیے کہ اس اہم معاملے پر سامنے آنا کابینہ کی اجتماعی ذمہ داری ہے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ پہلے ججز کی بے عزتی کی گئی پھر کہا کہ ویڈیوز کی صداقت کی تصدیق ہو سکتی ہے۔

جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیئے کہ جج کی گفتگو کو ریکارڈ کرنا بہت آسان ہے ، ہر اس جج کی آڈیو ریلیز کردو جس کو کیس سے الگ کرنا ہو۔

اس پر اٹارنی جنرل منصور اعوان کا کہنا تھا کہ یہی وجہ ہے کہ حکومت اس کیس کو منطقی انجام تک پہنچانا چاہتی ہے۔

اس پر چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ یہ آڈیوز کس نے لگائیں؟ کیا حکومت نے یہ جاننے کی کوشش کی ہے کہ اس کے پیچھے کون ہے؟

اے جی پی نے جواب دیا کہ حکومت اس پہلو کو بھی لیکس کمیشن کے ذریعے دیکھنا چاہتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کمیشن اس بات کا بھی جائزہ لے گا کہ کالز کیسے ریکارڈ کی گئیں۔

منصور عثمان اعوان نے عدالت کو بتایا ک "حکومت کے مطابق، یہ آڈیوز اب تک مبینہ ہیں۔” انہوں نے زور دے کر کہا کہ کسی بھی وزیر کا ذاتی تبصرہ کابینہ کے موقف کی نمائندگی نہیں کرتا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ اگر سپریم کورٹ کے تمام ججوں کے حوالے سے مسئلہ پیدا ہوتا ہے تو نظریہ ضرورت کو نافذ کیا جاسکتا ہے۔

اٹارنی جنرل نے عدالت پر زور دے کر کہا کہ وہ بینچ کو تبدیل کرنے کی درخواست پر غور کرے۔ بینچ کی تبدیلی سے درخواست گزاروں کے حقوق پر متاثر نہیں پڑے گا۔

ایک اور درخواست گزار عابد زبیری کے وکیل شعیب شاہین نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ وفاقی حکومت الیکشن کیس میں فریق ہے اور یہ کمیشن بھی بنا رہی ہے۔

اگر ٹی او آرز میں آڈیو ریکارڈ کرنے والے شخص کا ذکر ہوتا تو فرق پڑتا۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہاں سوال عدلیہ میں ایگزیکٹو کی مداخلت کا تھا۔

بعدازاں سپریم کورٹ نے آڈیو لیکس کمیشن کی تشکیل کے خلاف دلائل مکمل ہونے پر فیصلہ محفوظ کرتے ہوئے سماعت ملتوی کردی۔

متعلقہ تحاریر