اسحاق ڈار نے چین کو دیئے گئے 1.3 ارب ڈالر واپس آنے کی نوید سنا دی

وزیر خزانہ اور محصولات نے نیوز 360 اور انگریزی روزنامہ ڈان کی خبر کی تصدیق کردی ہے جس میں بتایا گیا تھا کہ اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ کے ذخائر 3 ارب ڈالر رہ گئے ہیں۔

وفاقی وزیر خزانہ اور محصولات سینیٹر اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ چین کو دیے گئے 1.30 ارب ڈالر آج یا سوموار تک دوبارہ کریڈٹ ہو جائیں ہیں، وزیر خزانہ نے نیوز 360 اور انگریزی روزنامہ ڈان کی خبر کی تصدیق کردی ہے جس میں بتایا گیا تھا کہ اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ کے ذخائر 3 ارب ڈالر رہ گئے ہیں ، کیونکہ چین کو ایک ارب ڈالر کی ادائیگی کردی گئی ہے۔

وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے یہ تفصیل قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کو بریفنگ دیتے ہوئے بتائی۔ اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ چین کے ساتھ دو ارب ڈالر کے سوائپ بھی پائپ لائن میں ہیں۔

وفاقی وزیر خزانہ اور محصولات سینیٹر اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ اگلے مالی سال ساڑھے 3 فیصد جی ڈی پی گروتھ کا ہدف بآسانی حاصل کر لیں گے، الیکشن نہ بھی ہوتا تو ملک کو زیرو فیصد گروتھ سے نکالنا تھا۔

یہ بھی پڑھیے

وزیر خزانہ سے سی ای او نیسلے کی ملاقات، کمپنی کو درپیش مسائل سے آگاہ کیا

چین کو ایک ارب ڈالر کی ادائیگی، زر مبادلہ کے ذخائر 3 ارب ڈالر تک گرگئے

وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کو بتایا کہ آئی ایم ایف کے ساتھ نویں اقتصادی جائزے میں غیرمعمولی تاخیر ہوئی ہے، اقتصادی جائزے میں تاخیر کی وجہ سے بجٹ اسٹریٹجی پیپر بھی تاخیر کا شکار ہوا، اگلے مالی سال ساڑھے 3 فیصد جی ڈی پی گروتھ کا ہدف بآسانی حاصل کر لیں گے، الیکشن نہ بھی ہوتا تو بھی ملک کو زیرو فیصد گروتھ سے نکالنا تھا۔ نوجوان طبقہ، خواتین کو بااختیار بنانا اور اسکل ڈیویلپمنٹ ترجیح ہے۔

قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کو بریفنگ اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ ہم نے بجٹ میں آئی ٹی سیکٹر اور ایس ایم ایز پر توجہ دی ہے، الیکشن نہ بھی ہوتا تب بھی بجٹ ایسا ہی پیش کرتے، اس سال اوسط مہنگائی 29 فیصد اور کور انفلیشن 20 فیصد ہے، سرکاری ملازمین سب سے زیادہ پسا ہوا طبقہ ہے، پنشنرز کو بھی مہنگائی کے تناسب سے ریلیف دیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایف بی آر کا 9200 ارب روپے کا سالانہ ٹیکس ہدف سائنسی بنیادوں پر رکھا گیا، ایف بی آر کا نئے مالی سال کا ہدف غیرحقیقی نہیں ہے، مہنگائی اور شرح نمو کے حساب سے ٹیکس کا ٹارگٹ رکھا جاتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ بجٹ میں 223 ارب روپے کے ٹیکس اقدامات شامل کیئے گئے ہیں، کراچی پورٹ پر کھڑے کنٹینرز کی کلیئرنس میں تاخیر کی رپورٹ طلب کر لی۔

قومی اسمبلی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ اس سال 9 لاکھ نئے ٹیکس دہندگان رجسٹرڈ کیئے گئے، 7 لاکھ ہدف کے بجائے 9 لاکھ نئے ٹیکس دہندگان شامل ہوئے، موجودہ ٹیکس دہندگان پر کوئی بوجھ نہیں ڈالا گیا، نئے ٹیکس دہندگان سے ٹیکس اکھٹا کرکے ہدف پورا کریں گے۔

وفاقی وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ یوریا کی اسمگلنگ روکنے کیلئے اقدامات کئے گئے ہیں، فرٹیلائزرز کے شعبے کو گیس ریٹ میں ریلیف سے اسمگلنگ میں اضافہ ہوا۔

اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ ڈالر کی اسمگلنگ ابھی بھی جاری ہے ، افغانستان میں حکومت کی تبدیلی سے ڈالر میں کمی ہوئی ہے کیونکہ پاکستان سے ڈالر اسمگل ہوکر افغانستان جارہا ہے ، ڈالر کی اسمگلنگ ابھی رکی نہیں تاہم اسمگلنگ میں کمی ہوئی ہے، کسٹم نے 2 کروڑ ڈالر کی اسمگلنگ اور 5 ارب روپے کی اسمگل شدہ چینی پکڑی ہے۔

سینیٹر اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ غیرمعمولی منافع پر ٹیکس کے حوالے سے ترمیم کی گئی ہے، وفاقی حکومت نے اس پر قانون شامل کیا ہے اور وفاقی حکومت ہی تناسب کا فیصلہ کریگی۔ 99 ڈی کے قانون کے تحت 50 فیصد تک ٹیکس غیر معمولی منافع پر لیا جائے گا، نان فائلر پر 0.6 فیصد ودہولڈنگ ٹیکس معیشت کو دستاویزی کرنے کیلئے لگایا گیا ہے۔

وزیر خزانہ اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ چین کو دیئے گئے 1.30 ارب ڈالر جلد دوبارہ ہمیں مل جائیں گے،آج یا سوموار تک ایک ارب ڈالر دوبارہ کریڈٹ ہو جائیں ہیں، چین کے ساتھ دو ارب ڈالر کے سوائپ بھی پائپ لائن میں ہیں۔

متعلقہ تحاریر