صوبائی وزیر شرجیل میمن سندھ اسمبلی میں سیخ پا ہوگئے
سندھ کے وزیرِ اطلاعات و ٹرانسپورٹ کا کہنا ہے کہ کسی کے باپ میں ہمت نہیں ہمیں کراچی آنے سے روکے ، سندھ کراچی ہے اور کراچی سندھ ہے۔
امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمان کے بیان پر پہلے سے سیخ پا صوبائی وزیر شرجیل انعام میمن سندھ اسمبلی کے بجٹ اجلاس میں ایم کیو ایم کے ایم پی اے جاوید حنیف اور جماعت اسلامی کے ایم پی اے سید عبدالرشید کے بیان پر مزید غصے میں آگئے۔ کہتے ہیں کسی کے باپ میں ہمت نہیں ہمیں کراچی آنے سے روکے۔ سوال یہ ہے کہ شرجیل میمن صاحب آپ نے کبھی سندھ کو سندھ سمجھا ہے جو کراچی کو سندھ بنانے کی باتیں کرتے ہیں۔
سندھ اسمبلی کے بجٹ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے شرجیل انعام میمن کا کہنا تھا کہ کراچی ہمارا ہے ، یہ لوگ کہتے ہیں کہ کراچی میں لوگ افغانستان ، خیبرپختونخوا اور پنجاب سے آجاتے ہیں۔ سندھ سے آجاتے ہیں۔ میں بتا دینا چاہتا ہوں کہ سندھ سے لوگ کراچی میں آئیں گے کیونکہ کراچی سندھ ہے۔ کسی کے باپ کی مجال نہیں ہے کہ ہمیں آنے سے روکے۔ کراچی سندھ ہے کراچی سندھ رہے گا۔
یہ بھی پڑھیے
پیپلزپارٹی نے جبر، دھونس اور دھاندلی سے مرتضیٰ وہاب کو میئر کراچی منتخب کرالیا
لاڑکانہ کا اتائی ڈاکٹر فرحان بھٹو محکمہ صحت پر بھاری؛ اعلیٰ افسران کو دھمکیاں
شرجیل انعام میمن کا کہنا تھا کہ یہ لوگ یہاں بیٹھ کر ہمیں طعنہ دیتے ہیں کہ سندھ لوگ کراچی میں آجاتے ہیں۔ آپ ہوتے کون ہیں؟۔ یہ کہنے والے کہ سندھ سے آجاتے ہیں۔ جس نے کراچی کو سندھ سے الگ کرنے کا خواب دیکھا تھا وہ لندن میں لاک ہوگیا۔
@sharjeelinam
تمہاری یہ تقریر سن کے ہنسی چھوٹ گٸ😍۔۔۔۔۔۔اوۓ پینے پلانے والے پی پی پی کے وڈیرے دوچار ایسی تقریریں اور دے مارو تآنکہ سندھ کی تقسیم تمہارے عقل چوس نظریے کے کارن یقینی ہوجاۓ!
لندن کے جس شیر کا زکر تم نے کیا ہے وہ کوٸ دن نہی جا رہا آنے والا ہے،اور پھر سندھ کی تقسیم… pic.twitter.com/Zev6ZPSBKg— SOHAIL YOUSUFZAI (@MyBuriedFreedom) June 16, 2023
واضح رہے کہ گذشتہ دنوں امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمان نے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ اردو اسپیکنگ لوگوں کی آبادی کو کم دکھانے کے لیے باہر سے لوگوں کو لاکر بٹھا دیا گیا۔
اسی طرح گذشتہ روز جماعت اسلامی کے ایم پی اے سید عبدالرشید اور ایم کیو ایم کے ایم پی اے جاوید حنیف نے بجٹ سیشن کے دوران خطاب کرتے ہوئے سندھ حکومت کی کارکردگی کا پول کھول کررکھ دیا۔
ایم پی اے سید عبدالرشید کا کہنا تھا کہ کراچی کی ترقی کی باتیں کی جاتی ہیں جبکہ اندرون سندھ کے چپے چپے میں غربت پھیلی ہوئی ہے۔ غریب کے بچے کے پاؤں میں جوتا تک نہیں ہے۔
سندھ حکومت کی کارکردگی پر تنقید کرتے ہوئے ایم کیو ایم کے ایم پی اے جاوید حنیف کا کہنا تھا کہ گذشتہ 15 سال کے بجٹ میں صحت، تعلیم اور امن و امان میں کوئی بہتری نہیں آئی۔ عوام کو تحفظ فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ تحفظ کا ذمہ دار کون ہے؟ انہوں نے کہا کہ 65 لاکھ بچے اسکولوں سے باہر ہیں، اساتذہ بھرتی کیے گئے ہیں۔ وہ بچوں کو کیا سکھا رہے ہیں؟
جاوید حنیف کا کہنا تھا کہ 48% بچے سادہ اردو اور سندھی نہیں پڑھ سکتے۔ اسکولوں میں انفراسٹرکچر نہیں ہے۔ بڑے دعوے کیے جاتے ہیں لیکن سندھ میں ایڈز بڑھ رہا ہے، ہیپاٹائٹس سی، کینسر بڑھ رہا ہے، پولیو آج تک ختم نہیں ہو سکا۔ زراعت پر ہزاروں ارب خرچ ہوتے ہیں۔ پتہ نہیں کہاں چلے جاتے ہیں، شہر والوں کو روزگار نہیں ملتا، شہر کے باہر سے لا کر یہاں لوگوں کو بٹھایا جارہا ہے۔
شرجیل انعام میمن کے بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے تجزیہ کاروں کا کہنا تھا کہ شرجیل میمن صاحب آپ نے کبھی سندھ کو سندھ نہیں سمجھا کراچی کو کیا سندھ بنائیں گے۔ آپ کا تعلق ٹھٹھہ سے ہے ، آپ کا پورا شہر سائیکلون کی لپیٹ میں تھا مگر آپ کراچی میں دھندھانتے پھیر رہے ہیں۔ آپ کے شہر میں مختلف مافیا سرگرم ہیں جنہوں نے لوگوں کی زندگیاں اجیرن کررکھی ہیں۔ اور آپ کراچی کو سندھ بنانے کے دعوے کرتے ہیں۔









