کاروباری اور تنخواہ دار طبقے پر انکم ٹیکس میں 2.5 فیصد اضافہ

سالانہ 24 لاکھ روپے آمدن پر ایک لاکھ 65ہزارروپے ، 36 لاکھ روپے آمدن پر4 لاکھ 35 ہزار روپے اور 60 لاکھ روپے سے زائد آمدن پر 10 لاکھ 95 ہزار روپے اضافی فکس انکم ٹیکس بھی عائد کردیا گیا

آئی ایم ایف کی خوشنوی کے لیے حکومت نے انکم ٹیکس میں ڈھائی فیصد اضافہ کرنے کا فیصلہ کرلیا جبکہ اضافی فکس انکم ٹیکس بھی عائد کردیا گیا ہے۔
ساتھ ہی تنخواہ دار طبقے کی سالانہ  24 لاکھ سے زائد آمدن پر بھی ٹیکس میں  2.5 فیصد اضافہ کردیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

شہباز شریف حکومت نے آئی ایم ایف کے سامنے گھٹنے ٹیک دیئے

آئی ایم ایف کا دباؤ: حکومت کا عوام پر مزید 200 ارب روپے کے ٹیکسز لگانے کا فیصلہ

 سالانہ 24 لاکھ روپے تک آمدن پر ٹیکس 20 سے بڑھا کر22.5 فیصد کردیا گیا ہے اور ساتھ ہی  سالانہ 24 لاکھ آمدن پر ایک لاکھ  65 ہزار روپے فکس انکم ٹیکس بھی عائد ہوگا۔

سالانہ 36 لاکھ روپے تک آمدن پر ٹیکس  25 فیصد سے بڑھا کر  27.5 فیصد کردیا گیا جبکہ ساتھ ہی سالانہ  36 لاکھ روپے تک آمدن پر 4لاکھ  35 ہزار روپے فکس انکم ٹیکس بھی عائد ہوگا۔

 سالانہ  60 لاکھ سے زائد آمدن پرٹیکس 32.5 سے بڑھا کر 35 فیصد کردیا گیا ہے  جبکہ 10 لاکھ 95 ہزار روپے فکس انکم ٹیکس بھی عائد ہوگا۔

کاروباری طبقے پر سالانہ 6 لاکھ سے 8 لاکھ آمدن پر ٹیکس 5 سے بڑھا کر  7.5 فیصد، سالانہ 8 لاکھ سے12 لاکھ آمدن پر ٹیکس 12.5 سے بڑھا کر15 فیصد  ، سالانہ 12 لاکھ سے 24 لاکھ  روپےآمدن پر ٹیکس  17.5 سے بڑھا کر20  فیصد جبکہ  سالانہ 30 لاکھ سے 40 لاکھ  روپے آمدن پر  ٹیکس  27.5 سے بڑھا کر30 فیصد کردیا گیا ہے۔

متعلقہ تحاریر