پرویز الٰہی دوبارہ گرفتار: ایف آئی اے کی جسمانی ریمانڈ کی درخواست پر فیصلہ محفوظ
ایف آئی اے کا کہنا ہے کہ مبینہ فرنٹ مین محمد زمان کے بارے میں چوہدری پرویز الٰہی سے تفتیش کرنی ہے۔
لاہور کی مقامی عدالت نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے گرفتار صدر چوہدری پرویز الٰہی سے تفتیش کے لیے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔
ایف آئی اے کے حکام کا کہنا ہے کہ منی لانڈرنگ کیس میں چوہدری پرویز الٰہی سے تفتیش کی ضرورت ہے۔ ایف آئی اے کی ٹیم نے پرویز الٰہی کو کیمپ جیل سے عدالت پہنچایا تھا۔
یہ بھی پڑھیے
پی ٹی آئی سے علیحدگی کے باجود جمشید چیمہ دوبارہ گرفتار، مسرت چیمہ کا سخت ردعمل
لاہور ہائیکورٹ نے بشریٰ بی بی کی 26 جون تک حفاظتی ضمانت منظور کر لی
ایف آئی اے حکام کا کہنا ہے کہ انہوں نے سابق وزیراعلیٰ سے ان کے مبینہ فرنٹ مین محمد زمان کے بارے میں پوچھ گچھ کرنی ہے۔
ایف آئی اے نے لاہور کی مقامی عدالت سے پرویز الٰہی کے 14 روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی ہے۔
ایف آئی اے نے کہا کہ پرویز الٰہی کا جسمانی ریمانڈ درکار ہے جب کہ سابق وزیراعلیٰ پرویز الٰہی کے وکیل نے جسمانی ریمانڈ کی مخالفت کی ہے۔
پرویز الٰہی کے وکیل نے کہا کہ ان کے موکل کو سیاسی بنیادوں پر دوبارہ گرفتار کیا گیا۔
اس سے قبل ایف آئی اے نے چوہدری پرویز الٰہی کے مبینہ فرنٹ مین چوہدری محمد زمان کے موبائل فون کے فرانزک تجزیے کے ذریعے اہم شواہد حاصل کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔
ایف آئی اے ذرائع کے مطابق پرویز الہیٰ کے فرنٹ مین چوہدری زمان ان کے مالی معاملات کو سنبھالتے تھے۔ چوہدری زمان نے پولیس کو دیے گئے ایک بیان میں پرویز الٰہی اور اس کے خاندان کے لین دین کو سنبھالنے کا اعتراف بھی کیا ہے۔









