توہین عدالت کیس: شیریں مزاری کی گرفتاری پر آئی جی اسلام آباد اکبر نواز کے معصومانہ جوابات

آئی جی اسلام آباد نے موقف اختیار کیا کہ پولیس افسران کو آرڈر کیا ہے کہ عدالتی احکامات پر مکمل عمل درآمد کو یقینی بنائیں۔

اسلام آباد ہائی کورٹ میں توہین عدالت کیس میں آئی جی اسلام آباد اکبر نواز نے معصومانہ جوابات اور دلیلوں کے ڈھیر لگا دیئے۔

عدالتی حکم کے باوجود شیریں مزاری کی گرفتاری کے توہین عدالت کیس میں آئی جی اسلام آباد نے جواب اسلام آباد ہائیکورٹ میں جمع کرا دیا۔

آئی جی اسلام آباد کی جانب سے جمع کرائے گئے جواب میں اکبر ناصر خان نے اسلام آباد ہائیکورٹ سے معذرت کر لی۔

جواب میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ عدالتی حکم کی خلاف ورزی کا جو تاثر بنا اس پر شرمندہ ہوں اور معذرت کرتا ہوں۔

یہ بھی پڑھیے

بلوچستان ہائیکورٹ کا چیئرمین پی سی بی کا انتخاب 17جولائی تک روکنے کا حکم

لاہور ہائیکورٹ نے پی سی بی کے انتخابات روکنے کی حکم امتناع کی درخواست مسترد کر دی

ان کا کہنا تھا کہ ایڈوکیٹ ایمان مزاری نے گرفتاری سے روکنے کے عدالتی حکم سے متعلق پولیس کو آگاہ نہیں کیا تھا۔

آئی جی اسلام آباد نے یقین دلایا کہ مستقبل میں ایسی کسی صورت حال سے بچنے کے لیے آفس آرڈر جاری کیا جائے گا۔

آئی جی اسلام آباد نے موقف اختیار کیا کہ پولیس افسران کو آرڈر کیا ہے کہ عدالتی احکامات پر مکمل عمل درآمد کو یقینی بنائیں۔

آئی جی اسلام آباد نے معصومانہ انداز میں کہا کہ عدالت کی کسی ہدایت یا حکم کی خلاف ورزی کا سوچ بھی نہیں سکتا۔

آئی جی اسلام آباد کے بتایا کہ شیریں مزاری کو گرفتار کرنے والے پولیس اہلکاروں کے خلاف محکمانہ کارروائی کا آغاز کردیا۔ گرفتاری کرنے والے پولیس انچارج ، کانسٹیبل ، لیڈی کانسٹیبل کو شوکاز نوٹس جاری کیا جا چکا ہے۔

سب انسپکٹر حیدر علی ، کانسٹیبلز سہیل قریشی ، فیصل ، وقاص گرفتاری ٹیم میں شامل تھے۔ شیریں مزاری کی گرفتاری میں لیڈی کانسٹیبل سندس اور ماروی بھی شامل تھے۔

ڈی سی راولپنڈی کے ایم پی او آرڈر سے پہلے گرفتاری سے روکنے کے عدالتی آرڈر کی کاپی پولیس کو سروس نہیں ہوئی تھی ، ڈی سی راولپنڈی کے ایم پی او کے تحت 17 مئی کے آرڈر سے متعلق ہمیں بتایا گیا۔

تھانہ کوہسار کے آفیشلز راولپنڈی پولیس کے ساتھ شیریں مزاری کے گھر کے باہر گئے۔ ایڈوکیٹ ایمان مزاری نے گرفتاری سے روکنے کے عدالتی حکم متعلق پولیس کو آگاہ نہیں کیا تھا۔

متعلقہ تحاریر