نیب آرڈیننس میں بڑی ترمیم: چیئرمین نیب کو دوران انکوائری ملزم کو گرفتار کرنے کا اختیار مل گیا

قائم مقام صدر سنجرانی نے نیب ترمیمی آرڈیننس پر دستخط کر دیئے۔ چیئرمین نیب نے انکوائری کے دوران وارنٹ گرفتاری جاری کرنے کے خصوصی اختیارات دیئے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ سے چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کے کیس کے فیصلے سے قبل وفاقی حکومت نے نیب آرڈیننس میں بڑی تبدیلی کردی، نئی ترمیم سے چیئرمین نیب کو دوران انکوائری ملزم کو گرفتار کرنے کا خصوصی اختیار مل گیا۔

تفصیلات کے مطابق چیئرمین سینیٹ اور قائم مقام صدر صادق سنجرانی نے وزیراعظم شہباز شریف کی ایڈوائس پر قومی احتساب بیورو (نیب) کے ترمیمی آرڈیننس پر دستخط کردیئے ہیں ، جس کے تحت چیئرمین نیب کو دوران انکوائری ملزم کو گرفتار کرنے کا خصوصی اختیار حاصل ہو گیا ہے۔

مزید تفصیل کے مطابق قائم مقام صدر صادق سنجرانی نے قومی احتساب بیورو (نیب) ترمیمی آرڈیننس 2023 میں مجوزہ ترامیم کے لیے صدارتی آرڈیننس کی توثیق کر دی ہے۔ حج کی مصروفیات کی وجہ سے صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی ملک سے باہر ہیں ، آئین چیئرمین سینیٹ اور قائم مقام صدر صادق سجرانی کو آرڈیننس جاری کرنے کا اختیار دیتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

پرویز خٹک کے عمران خان پر الزامات کی بوچھار، ترجمان پی ٹی آئی نے الزامات کو بےبنیاد اور جھوٹ قرار دے دیا

چیئرمین تحریک انصاف نے جیل میں پی ٹی آئی کارکنان پر ہونے والے تشدد کی ویڈیو جاری کردی

اس سے قبل بتایا گیا تھا کہ وفاقی حکومت نے نیب آرڈیننس کے لیے ترامیم کا مسودہ تیار کیا تھا جسے متفقہ منظور کر لیا گیا تھا۔

ترمیم کے بعد چیئرمین نیب کو تفتیش کے دوران تعاون کی کمی کے کیسز میں ملزمان کے وارنٹ گرفتاری جاری کرنے کے خصوصی اختیارات حاصل ہو گئے ہیں۔

آرڈیننس کی منظوری کے بعد نیب ملزم کے جسمانی ریمانڈ کی مدت 14 روز سے بڑھا کر 30 دن کردی گئی ہے جبکہ آرڈیننس کی منظوری کے بعد نیب کے ملزم کو اپنی بے گناہی خود ہی ثابت کرنا ہوگی۔

نئی ترمیم کے تحت ملزم کسی بھی انکوائری کیخلاف عدالت سے رجوع نہیں کرسکے گا۔

متعلقہ تحاریر