عمران خان کو ایک دن میں کئی ریلیف مل گئے: مختلف عدالتوں سے 11 مقدمات میں عبوری ضمانتیں منظور

انسداد دہشتگردی کی خصوصی عدالت کے جج نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا ہے کہ عدالت کسی کی حمایت نہیں کرتی، استغاثہ جامع تحقیقات کرے تاکہ انصاف ہو۔

اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی عدالت (اے ٹی سی) نے پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان کی تین مقدمات میں عبوری ضمانت میں 19 جولائی تک توسیع کردی۔

انسداد دہشتگردی کی خصوصی عدالت کے جج نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا ہے کہ عدالت کسی کی حمایت نہیں کرتی، استغاثہ جامع تحقیقات کرے تاکہ انصاف ہو۔

پی ٹی آئی سربراہ کے خلاف انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت ایک مقدمہ تھانہ بہارہ کہو اور دو مقدمات تھانہ کھنہ میں درج کیے گئے تھے۔

دوران سماعت عمران خان کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ پی ٹی آئی کے سربراہ آج اسلام آباد ہائی کورٹ میں پیش ہوں گے۔

یہ بھی پڑھیے 

زمین فراڈ کیس: اے سی ای نے عظمیٰ خان اور ان کے شوہر کی ضمانت میں توسیع کردی

بھارتی سپریم کورٹ میں کشمیر کی خصوصی حیثیت بحال کرنے کی درخواست کو نمبر لگ گیا

تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ جے آئی ٹی نے چیئرمین پی ٹی آئی سے پوچھ گچھ بھی کی تھی۔

عدالت کے پوچھے جانے پر افسر نے کہا کہ ملزم تفتیش میں شامل ہو گیا ہے۔

پراسیکیوٹر نے عدالت کو بتایا کہ ملزم نے واقعے کے دن ٹوئٹ کی تھی۔ وہ اس مقدمے میں اکسانے کی حد تک نامزد ہے۔

عمران کے وکیل نے یہ بھی کہا کہ لاہور میں استغاثہ نے ان کے موکل کے ساتھ تعاون کیا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ 19 مقدمات میں کوئی بھی عدالت میں پیش نہیں ہوا تاہم ان کے موکل آج ہوں گے۔

عمران خان کے وکیل سلمان صفدر نے سوال اٹھایا کہ ان کے موکل کو اب تک کارروائی میں شامل ہونے کی اجازت کیوں نہیں دی گئی۔ انہوں نے مزید کہا کہ جب عدالت نے حکم دیا تو عدالت میں پیش ہوئے۔

فاضل جج نے عمران خان کے خلاف مقدمات کی تحقیقات کی تفصیلات بھی پوچھیں۔ جس پر عمران خان کے وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ پی ٹی آئی چیئرمین کے خلاف ٹائر جلانے کی بنیاد پر مقدمات درج کیے گئے۔ اینٹی ٹیررسٹ ایکٹ (اے ٹی اے) کے تحت تینوں مقدمات کی تفتیش گزشتہ روز مکمل کر لی گئی۔

جج ابوالحسنات نے کہا کہ کیا عدالت صرف ضمانتیں دینے کے لیے بیٹھی ہے؟ اگر ملزم بے گناہ ہے تو انصاف کیا جائے۔ میں استغاثہ کی جانب سے کسی قسم کی تاخیر برداشت نہیں کروں گا۔‘‘

جج نے مزید کہا کہ تفتیش بروقت ہونی چاہیے، اور جامع ہونی چاہیے۔

وکیل سلمان صفدر نے عدالت کو مزید بتایا کہ ان کے موکل کو ضمانت کے لیے 17 اور 18 جولائی کو کوئٹہ جانا ہے، اس لیے میری عدالت سے استدعا ہے کہ کیس کی سماعت 19 جولائی تک ملتوی کی جائے۔

جج ابوالحسنات نے وکیل کو ہدایت کی کہ ان کے پاس جو بھی مواد ہے وہ پیش کریں۔

بعد ازاں عدالت نے چیئرمین پی ٹی آئی کی عبوری ضمانت میں 19 جولائی تک توسیع کردی۔

مزید آٹھ کیسز میں توسیع

علاوہ ازیں اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن عدالت نے بھی عمران خان کی آٹھ مقدمات میں عبوری ضمانت میں 19 جولائی تک توسیع کر دی۔

جج طاہر عباس سپرا نے ریمارکس دیئے کہ اگر ملزم تفتیش میں شامل نہ ہوا تو آئندہ سماعت پر فیصلہ سنائیں گے۔

ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج طاہر عباس سپرا کی عدالت میں پی ٹی آئی سربراہ کے خلاف 6 اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے خلاف ایک کیس کی سماعت ہوئی۔

ان کی قانونی ٹیم نے عمران خان کو باہر لے جانے کی کوشش کی تو جج نے انہیں روکتے ہوئے پوچھا کہ دیگر کیسز میں التوا کے لیے کیا تاریخ دی گئی ہے۔ اس پر عمران خان کے وکیل نے جواب دیا 19 جولائی۔

جج طاہر عباس سپرا نے عبوری ضمانت میں 19 جولائی تک توسیع کرتے ہوئے کہا کہ اگر ملزم تفتیش میں شامل نہیں ہوتا ہے تو وہ اگلی سماعت پر فیصلہ سنائیں گے۔

ایڈیشنل سیشن جج کا عمران خان کو ریلیف

دوسری جانب ایڈیشنل سیشن جج فرخ فرید بلوچ نے پی ٹی آئی سربراہ کے خلاف تھانہ شہزاد ٹاؤن میں درج دو مقدمات کی سماعت کی۔

عدالت نے ان مقدمات میں بھی ملزم کی 19 جولائی تک عبوری ضمانت منظور کر لی۔

متعلقہ تحاریر