جناح ہاؤس حملہ کیس: پی ٹی آئی رہنما عمر چیمہ اور اعجاز چوہدری 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر جیل منتقل
عدالت نے پولیس کی جانب سے دونوں رہنماؤں کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا مسترد کر دی۔
لاہور میں انسداد دہشت گردی کی عدالت (اے ٹی سی) نے پیر کے روز پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما عمر سرفراز چیمہ اور اعجاز احمد چوہدری کو جناح ہاؤس پر حملے اور 9 مئی کو آتشزدگی سے متعلق کیس میں 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا۔
پی ٹی آئی کے دونوں رہنماؤں کو پولیس نے جج عبہر گل خان کی عدالت کے سامنے پیش کیا اور ان کا 14 روزہ جسمانی ریمانڈ طلب کیا۔
سماعت کے دوران عدالت نے جسمانی ریمانڈ کی استدعا مسترد کرتے ہوئے 14 روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کردیا۔
یہ بھی پڑھیے
عمران خان کو ایک دن میں کئی ریلیف مل گئے: مختلف عدالتوں سے 11 مقدمات میں عبوری ضمانتیں منظور
زمین فراڈ کیس: اے سی ای نے عظمیٰ خان اور ان کے شوہر کی ضمانت میں توسیع کردی
9 مئی کو پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان کو اسلام آباد ہائی کورٹ (آئی ایچ سی) کے احاطے سے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں نے گرفتار کیا تھا۔ ان کی گرفتاری کے بعد ملک بھر میں پرتشدد مظاہرے پھوٹ پڑے تھے۔
پی ٹی آئی سربراہ کی گرفتاری پر مشتعل پارٹی کارکنوں اور حامیوں نے لاہور میں جناح ہاؤس سمیت سرکاری اور فوجی تنصیبات میں توڑ پھوڑ کی تھی اور متعدد مقامات پر آگ لگا دی تھی۔
پرتشدد مظاہروں کو روکنے کے لیے حکومت نے کئی شہروں میں رینجرز اور فوج تعینات کردی تھی جبکہ فوجی تنصیبات پر حملے کرنے والے ملزمان کے خلاف فوجی عدالتوں میں مقدمات چلانے کی اجازت دی تھی۔
ملک گیر کریک ڈاؤن میں پی ٹی آئی کے کارکنوں اور رہنماؤں کی بڑی تعداد کو گرفتار کیا گیا ہے۔
سابق گورنر پنجاب عمر سرفراز چیمہ اور رہنما پی ٹی آئی اعجاز چوہدری ان چند رہنماؤں میں سے ایک تھے جنہیں پرتشدد مظاہرہ کے بعد پارٹی کارکنان کو تشدد پر اکسانے کے کیس میں گرفتار کیا گیا تھا۔جبکہ بہت سے پی ٹی آئی رہنماؤں کو پارٹی سے علیحدگی کے بعد عبوری ضمانتوں پر رہا کردیا گیا تھا۔









