اسلام آباد کی عدالت نے عمران بشریٰ نکاح کی درخواست پر فیصلہ کالعدم قرار دے دیا

سیشن جج اعظم خان نے تفصیلی فیصلہ جاری کیا۔

اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ کے جج نے عمران خان اور بشریٰ بی بی کے نکاح کو غیر شرعی قرار دینے کے درخواست کو سول جج کی جانب سے مسترد کیے جانے کے فیصلے کو کالعدم قرار دے دیا۔ سیشن جج نے کیس کو دوبارہ سن کر فیصلہ کرنے کی ہدایت جاری کردی۔

سیشن جج اعظم خان نے تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے کیس کو دوبارہ سول کورٹ میں بھیج دیا۔ جج نے عدالت کو تمام قانونی پہلوؤں کو مدنظر رکھتے ہوئے کیس کا از سر نو جائزہ لینے کی ہدایت کی۔

محمد حنیف کی جانب سے دائر ابتدائی درخواست میں سابق وزیراعظم اور بشریٰ بی بی کی شادی کو غیر قانونی قرار دینے کی استدعا کی گئی تھی۔ 13 مئی کو سول جج ناصر من اللہ نے درخواست کو ناقابل سماعت قرار دے دیا تھا۔

یہ بھی پڑھیے

توشہ خانہ فوجداری کیس کی سماعت پیر تک ملتوی

دہشت گردی کے تین مقدمات میں عمران خان کے قابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری

محمد حنیف کے وکیل راجہ رضوان عباسی نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ بشریٰ بی بی اپنے نکاح کے وقت جنوری 2018 میں عدت میں تھیں کیونکہ اس نے نومبر میں طلاق لی تھی۔

وکیل نے کہا کہ عدت کے دوران شادی خلاف قانون اور خلاف شریعت ہے۔

ایک موقع پر سول جج نے عدالت کے دائرہ اختیار پر سوال اٹھاتے ہوئے پوچھا کہ پی ٹی آئی کے سربراہ کی شادی، جو لاہور میں ہوئی تھی، ان کے دائرہ کار میں کیسے آئی؟ راجہ رضوان عباسی نے عدالت کو بتایا کہ نکاح خواں کا تعلق اسلام آباد سے ہے۔ عدالت نے فیصلہ دیا کہ مقدمہ اس کے دائرہ اختیار سے باہر ہے اور اس لیے ناقابل سماعت ہے۔

بعد ازاں درخواست گزار نے فیصلے کو سیشن عدالت میں چیلنج کرتے ہوئے کہا کہ سول جج کی جانب سے ان کے دلائل پر غور نہیں کیا گیا۔

سیشن عدالت میں کارروائی کے دوران حنیف کے وکیل نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ سیکشن 179 نے کیس کو لاہور اور اسلام آباد دونوں میں سننے کی اجازت دی کیونکہ سابق وزیراعظم اور بشریٰ بی بی نکاح کے بعد اسلام آباد میں رہائش پذیر تھیں۔

سیشن جج نے دلائل سننے کے بعد درخواست کو قابل سماعت قرار دیتے ہوئے کیس کو مزید کارروائی کے لیے دوبارہ سول کورٹ میں بھیج دیا۔

ایک الگ معاملے میں اسلام آباد کی احتساب عدالت نمبر 1 نے القادر ٹرسٹ کیس میں سابق وزیراعظم اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی 190 ملین پاؤنڈز کی عبوری ضمانت میں 19 جولائی تک توسیع کردی۔

عدالت نے ان کی ضمانت کی درخواستوں پر 19 جولائی کو حتمی دلائل بھی مقرر کیے ہیں۔

متعلقہ تحاریر