مریم اورنگزیب کے پیمرا ترمیمی بل 2023 کو حامد میر نے میڈیا کیلئے مارشل لاء قرار دے دیا
سینئر صحافی کا کہنا ہے کہ پیمرا ترمیمی بل 2023 سپریم کورٹ کے فیصلے کے صریحاً خلاف ورزی ہے۔
وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ پیمرا (ترمیمی) بل 2023 کا مقصد صحافیوں کی فلاح و بہبود کے اقدامات کو بہتر بنانا ، میڈیا کو آزاد، ذمہ دار اور اخلاقی ماحول فراہم کرنا ہے۔ تاہم سینئر صحافی حامد میر کا کہنا ہے کہ پیمرا ترمیمی بل کے ذریعہ میڈیا پر مارشل لاء نافذ کرنے کی کوشش کی گئی ہے یہ بل سپریم کورٹ کے ایک فیصلے کی خلاف ورزی ہے۔
سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر پیغام جاری کرتے ہوئے مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ "مجھے خوشی ہے کہ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات نے آج پیمرا (ترمیمی) بل 2023 منظور کر لیا، جسے میں نے کل قومی اسمبلی میں پیش کیا تھا۔”
I am pleased that the NA Standing Committee for Information & Broadcasting passed the PEMRA (Amendment) Bill 2023 today, which I had laid in the National Assembly yesterday. The Bill was approved by the Committee after a comprehensive discussion between the Committee members and…
— Marriyum Aurangzeb (@Marriyum_A) July 21, 2023
مریم اورنگزیب نے لکھا ہے کہ "کمیٹی کے ارکان میرے ساتھ ایک جامع بحث کے بعد بل کی منظوری دی۔ یہ بل تمام اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ گذشتہ ایک سال کے دوران وسیع مشاورت کے بعد تیار کیا گیا۔ جوائنٹ ایکشن کمیٹی (PFUJ، PBA، AMEND، CPNE، اور APNS) کے تمام اسٹیک ہولڈرز کو آن بورڈ لیا ، اور ان کی معلومات اور آراء کو بل میں شامل کیا گیا۔”
یہ بھی پڑھیے
خیبرپختونخوا میں 24 گھنٹوں کے دوران طوفانی بارشوں سے 4 افراد جاں بحق، ایک زخمی
محکمہ موسمیات کی 25 اور 26 جولائی کو کراچی میں گرج چمک کے موسلادھار بارش کی پیشگوئی
وزیر اطلاعات و نشریات نے لکھا ہے کہ "بل کو حتمی شکل دی گئی اور تمام اسٹیک ہولڈرز کی طرف سے بل پر دستخط لیے گئے۔ میں اس بل کی تیاری میں جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے فعال کردار ، وقت، کوشش اور قیمتی رائے کا شکریہ ادا کرنا چاہتی ہوں۔”
مریم اورنگزیب نے مزید لکھا ہے کہ "بل کا بنیادی مقصد صحافیوں کی فلاح و بہبود کے اقدامات کو بہتر بنانا، اور پاکستان میں آزاد، ذمہ دار اور اخلاقی میڈیا ماحول کو فعال کرنا ہے، جیسا کہ دنیا بھر کے جمہوری ممالک میں رائج ہے۔”
انہوں نے لکھا ہے کہ "اس بل سے مختلف اہم دیرینہ مسائل اور معاملات کو حل کرنے کا موقع ملے گا ، جن میں چیئرمین پیمرا کے من مانی، غیر چیک شدہ اختیارات، پیمرا اتھارٹی اور شکایات کونسل میں پی ایف یو جے اور پی بی اے کی نمائندگی کا فقدان، صحافیوں کی تنخواہوں کی ادائیگی میں تاخیر، اور غلط معلومات اور غلط معلومات کی تعریف شامل ہیں۔”
انہوں نے مزید لکھا ہے کہ "بل میں موجود نمایاں خصوصیات ، بل کی نمایاں خصوصیات ، بل کی تیاری کے لیے کیے گئے وسیع شراکتی اور مشاورتی عمل کی تفصیلات پریس کانفرنس کے دوران بتاؤں گی۔”
تاہم بل کی منظور پر سخت تنقید کرتے ہوئے پاکستان کے سینئر صحافی اور تجزیہ کار حامد میر نے اپنے ٹوئٹ میں لکھا ہے کہ ” پیمرا ترمیمی بل کے ذریعہ میڈیا پر مارشل لاء نافذ کرنے کی کوشش کی گئی ہے یہ بل سپریم کورٹ کے ایک فیصلے کی خلاف ورزی اور الیکشن سے قبل الیکشن میں دھاندلی کے خلاف آواز کو دبانے کی کوشش ہے اس بل کے خلاف مزاحمت کے سوا ہمارے پاس کوئی دوسرا راستہ نہیں۔”
پیمرا ترمیمی بل کے ذریعہ میڈیا پر مارشل لاء نافذ کرنے کی کوشش کی گئی ہے یہ بل سپریم کورٹ کے ایک فیصلے کی خلاف ورزی اور الیکشن سے قبل الیکشن میں دھاندلی کے خلاف آواز کو دبانے کی کوشش ہے اس بل کے خلاف مزاحمت کے سوا ہمارے پاس کوئی دوسرا راستہ نہیں https://t.co/2pHIsgG5IA
— Hamid Mir حامد میر (@HamidMirPAK) July 22, 2023









