وفاقی حکومت نے غیرملکی تحائف توشہ خانے میں جمع کرانے کا بل پیش کردیا

بل کے مطابق صدر، وزیر اعظم اور وفاقی وزرا کے علاوہ مسلح افواج اور عدلیہ کے اراکین کو بھی تحائف جمع کرانے ہوں گے۔

سینیٹ میں حکومت نے توشہ خانہ بل پیش کردیا گیا۔ وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور برائے پارلیمانی امور مرتضی جاوید عباسی نے بل پیش کیا۔

بل کے مطابق صدر، وزیر اعظم اور وفاقی وزرا کے علاوہ مسلح افواج اور عدلیہ کے اراکین کو بھی تحائف جمع کرانے ہوں گے۔

توشہ خانے میں تحائف جمع نہ کروانے والے سرکاری عہدیدار یا نجی شخص کو سزا ہوگی۔ بل کی شق کے مطابق توشہ خانے کی قواعد کی خلاف ورزی پر تحفے کی مالیت کے پانچ گناہ کے برابر جرمانہ ہوگا۔

یہ بھی  پڑھیے

لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف چوہدری پرویز الٰہی نے سپریم کورٹ سے رجوع کر لیا

توشہ خانہ کیس کے جج نے میڈیا کی کمرہ عدالت میں آنے  پر پابندی لگا دی

بل کے مسودے میں کہا گیا ہے کہ توشہ خانہ قواعد کی خلاف ورزی کرنے یا خلاف ورزی کی کوشش اور خلاف ورزی میں معاونت پر سزا ہوگی۔

بل کا اطلاق سرکاری عہدے داران اور نجی افراد پر ہوگا، جو سرکاری وفد میں شامل ہوں گے۔

بی پی ایس ایک تا بی پی ایس چار کے نقد تحفہ لینے والے ملازمین مستثنیٰ ہوں گے۔

سرکاری عہدیدار یا نجی شخص کو ملنے والا تحفہ مقررہ وقت اورطریقہ کار کے تحت جمع کرانا ہوگا۔

وفاقی حکومت اس قانون کی منظوری کے بعد توشہ خانہ کے حوالے سے قواعد بنا سکے گی۔

متعلقہ تحاریر