الیکشنز ترمیمی بل پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے منظور
وزیر پارلیمانی امور مرتضیٰ جاوید عباسی ترامیم پیش کیں۔

پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس نے الیکشنز ایکٹ 2017 ترامیم کے بعد الیکشنز ترمیمی ایکٹ 2023 کے نام سے متفقہ طور پر منظور کرلیا۔
یہ ترامیم وزیر پارلیمانی امور اور پاکستان مسلم لیگ نواز (پی ایم ایل این) کے سینئر رہنما مرتضیٰ جاوید عباسی نے پیش کیں۔
مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کا کہنا تھا کہ حکومت نے پیپلز پارٹی کے سینیٹر رضا ربانی اور پی ٹی آئی کے سینیٹر علی ظفر سمیت اتحادیوں اور اپوزیشن ارکان کی جانب سے تحفظات کا اظہار کرنے کے بعد مذکورہ ترامیم کا نیا مسودہ تیار کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیے
ایم کیو ایم کے رعنا انصار سندھ اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر منتخب ہوگئیں
وزیر قانون نے کہا کہ دفعہ 230 کے علاوہ باقی تمام ترامیم پر 100 فیصد اتفاق پایا جاتا ہے۔
عبوری سیٹ اپ کے اضافی اختیارات
وزیر قانون نذیر تارڑ نے کہا کہ الیکشن ایکٹ میں ترامیم کی جارہی ہیں جس پر سو فیصد اتفاق ہے۔
انہوں نے کہا کہ نگران حکومت کو بڑے فیصلے اور بین الاقوامی معاہدے کرنے کا محدود اختیار دیا جائے گا۔
The Parliament in its Joint Session passed the "The Elections (Amendment) Bill, 2023"@PTVNewsOfficial @RadioPakistan pic.twitter.com/Rvoygf0OuE
— National Assembly 🇵🇰 (@NAofPakistan) July 26, 2023
تاہم جماعت اسلامی (جے آئی) کے سینیٹر مشتاق احمد کی جانب سے پیش کی گئی ترامیم کو مشترکہ اجلاس کی کثرت رائے سے مسترد کر دیا گیا۔
پریزائیڈنگ آفیسر، نتائج اور انتخابات
ترامیم کے مطابق اب پریذائیڈنگ افسر نتائج کی بروقت فراہمی کے لیے ان کو جمع کرانے کا پابند ہو گا، جس کے بعد پریذائیڈنگ افسر (پی او) فوری طور پر نتائج کو الیکشن کمیشن آف پاکستان اور ریٹرننگ آفیسر (RO) کو بھیجے گا۔
پریذائیڈنگ افسر حتمی نتیجے کی تصویر لے کر ریٹرننگ آفیسر اور الیکشن کمیشن کو بھیجے گا۔ عدم دستیابی کی صورت میں، پریزائیڈنگ آفیسر (پی او) ذاتی طور پر اصل نتیجہ فراہم کرنے کا پابند ہوگا۔
مزید برآں، پریزائیڈنگ آفیسر انتخابات کی رات 2 بجے تک نتائج دینے کا پابند ہو گا یا تاخیر کی صورت میں ٹھوس وجہ بتانا ہو گی۔
پریزائیڈنگ آفیسر (PO) کے پاس انتخابی نتائج جمع کرانے کے لیے اگلے دن صبح 10:00 بجے تک آخری تاریخ ہوگی۔
کورم کی نشاندہی پر سپیکر نے گنتی کی ہدایت کی جس پر الیکشن ایکٹ ترمیمی بل کی منظوری کا عمل روک دیا گیا۔
حکومت کو مشترکہ اجلاس کا کورم پورا کرنے کے لیے 113 ارکان کی ضرورت تھی، لہٰذا کورم پورا ہونے کے بعد قانون سازی کا عمل دوبارہ شروع ہوا اور پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کے ذریعے ترامیم کا آغاز ہوا۔
پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سینیٹر سید علی ظفر نے کہا کہ انتخابی اصلاحات کمیٹی نے بہت اچھا کام کیا اور تین طرح کی ترامیم متعارف کروائیں۔
عوام نے پارلیمنٹ کو ایک مقدس طاقت دی ہے۔ قومی اسمبلی کی مدت پانچ سال ہے جس کے بعد ملک نگراں سیٹ اپ کے زیرنگرانی چلا جاتا ہے۔
انہوں نے زور دے کر کہا کہ پوری دنیا میں پاکستان واحد ملک ہے جہاں یہ تصور پایا جاتا ہے اور آئین میں نگراں وزیراعظم اور نگراں کابینہ کے الفاظ استعمال کیے گئے ہیں۔
پی ٹی آئی کے سینیٹر علی ظفر نے کہا کہ نگران حکومت منتخب نمائندہ حکومت کی جگہ نہیں لے سکتی۔
انہوں نے مزید کہا کہ نگران حکومت کی واحد ذمہ داری منصفانہ، شفاف اور بروقت انتخابات کا انعقاد ہے۔
پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے اظہار خیال کرتے ہوئے سینیٹر سید علی ظفر نے کہا کہ انتخابی اصلاحات کمیٹی نے بڑی خوش اسلوبی سے کام کیا۔ تین قسم کی ترامیم متعارف کرائی گئیں۔
عوام نے پارلیمان کو ایک مقدس اختیار دیا ہے۔قومی اسمبلی کی مدت پانچ سال ہے جس کے بعد ملک نگران موڈ میں چلا جاتا… pic.twitter.com/zFCqx8uKbv
— National Assembly 🇵🇰 (@NAofPakistan) July 26, 2023
انہوں نے اصرار کیا کہ نگراں حکومت روزمرہ کے انتظامی امور چلا سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ نگران حکومت کو منتخب حکومت کے اختیارات دیے گئے تو یہ آئین کو پامال کرنے کے مترادف ہوگا۔
اجلاس ملتوی
بل کی منظوری کے بعد اسپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف نے پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس 7 اگست کی صبح 11 بجے تک ملتوی کر دیا۔









