سینیٹ سے توشہ خانہ مینجمنٹ اینڈ ریگولیشن بل 2023 منظور
نئی قانون سازی کے مطابق صدر مملکت اور وزیراعظم سمیت تمام عوامی عہدیداروں پر توشہ خانہ سے تحائف وصول کرنے پر پابندی ہو گی۔
توشہ خانہ سے متعلق اہم قانون سازی ، صدر مملکت، وزیراعظم سمیت تمام عوامی عہدیداروں پر توشہ خانہ سے تحائف وصول کرنے پر پابندی عائد ، تحفہ وصول کنندہ بھی تحفے کا خریدار نہیں بن سکے گا۔
اتوار 30 جولائی کو سینیٹ اجلاس میں توشہ خانہ مینجمنٹ اینڈ ریگولیشن بل 2023 منظور کرلیا گیا۔ توشہ خانہ بل میں ایک شق کا اضافہ کردیا گیا۔
توشہ خانہ کے تحائف سے حاصل ہونے والا پیسہ الگ اکاونٹ میں رکھا جائے گا، بل جے مطابق نیلامی سے ملنے والی رقم دور دروز علاقوں میں بچیوں کی تعلیم پر خرچ ہوگی۔
توشہ خانہ مینجمنٹ اینڈ ریگولیشن بل 2023 کی منظوری سے صدر مملکت اور وزیراعظم سمیت تمام عوامی عہدیداروں پر توشہ خانہ سے تحائف وصول کرنے پر پابندی ہوگی۔
یہ بھی پڑھیے
راجن پور اور خیرپور میں سیلاب سے علاقے زیرآب، کھڑی فصلیں تباہ
مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی نے نگراں وزیراعظم کے لیے 5 نام شارٹ لسٹ کردیئے ہیں، خواجہ محمد آصف
توشہ خانہ میں جمع ہونے والے تحائف کو عوامی نیلامی کے ذریعے فروخت کیا جائے گا۔ قدیم اشیاء اور گاڑیاں وصول کنندگان کو خریدنے کی اجازت نہیں ہوگی۔
نوادرات کو عجائب گھروں میں رکھا جائے گا یا حکومت کی ملکیت والی سرکاری عمارتوں میں ڈسپلے کیا جائے گا۔ تحفے کے طور پر موصول ہونے والی گاڑیوں کو پہلے توشہ خانہ میں جمع کرایا جائے گا۔
تحفے میں ملنے والی گاڑیاں کابینہ ڈویژن کے ٹرانسپورٹ اور پروٹوکول پول میں منتقل ہونگی۔
پبلک آفس ہولڈرز اور ان کے خاندان کے افراد کو براہ راست یا عوامی نیلامی کے ذریعے توشہ خانہ سے تحائف خریدنے کی اجازت نہیں ہوگی۔
پبلک آفس ہولڈرز یا ان کے رشتہ داروں کو کسی بھی زمرے میں تحائف اپنے پاس رکھنے کی اجازت نہیں ہوگی۔
پبلک آفس ہولڈر تحائف کی وصولی کی اطلاع فوری کابینہ ڈویژن کو دینے اور تحائف توشہ خانہ میں جمع کرانے کے پابند ہوں گے۔
اگر کسی پبلک آفس ہولڈر نے تحفہ کی وصولی کی اطلاع نہ دی تو اس کے خلاف مناسب کارروائی کی جائے گی۔
صدر مملکت ، وزیراعظم، چیئرمین سینیٹ، ڈپٹی چیئرمین سینیٹ، اسپیکر قومی اسمبلی، ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی، اراکین پارلیمنٹ اور وفاقی کابینہ، مشیروں اور معاونین خصوصی پر بھی اس بل کا اطلاق ہوگا۔
اسپیکر صوبائی اسمبلی، ڈپٹی اسپیکر صوبائی اسمبلی، اراکین صوبائی اسمبلی صوبائی کابینہ اور مشیروں پر بھی اس بل کا اطلاق ہوگا۔
اٹارنی جنرل، صوبوں کے ایڈووکیٹ جنرلز پراسیکیوٹر جنرلز، سپریم کورٹ کے چیف جسٹس اور ججز، ہائی کورٹس کے چیف جسٹس اور ججوں پر بھی اس کا اطلاق ہوگا۔
وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے ملازمین، فوجی ملازمین، حکومت کے زیر کنٹرول کارپوریشنوں کے ملازمین، خود مختار اور نیم خودمختار اداروں کے ملازمین پر بھی اس کا اطلاق ہوگا۔









