توشہ خانہ اور القادر ٹرسٹ کیسز میں عمران اور بشریٰ کی عبوری ضمانت میں 4 اگست تک توسیع

نیب حکام نے عمران خان کا دوران حراست ضبط کیا گیا موبائل فون بھی واپس کر دیا۔

اسلام آباد کی احتساب عدالت نے پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی 190 ملین پاؤنڈ القادر ٹرسٹ اسکینڈل اور توشہ خانہ نیب کیسز میں عبوری ضمانت میں 4 اگست تک توسیع کردی۔

قبل ازیں عمران خان کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ وہ سیشن کورٹ میں ہیں اور اکثر وہاں جانا پڑتا ہے۔ اس کے بعد انہوں نے 12 اگست کے بعد سماعت ملتوی کرنے کی استدعا کی۔

یہ بھی پڑھیے 

رضوانہ تشدد کیس: سول جج کی اہلیہ صومیہ عاصم کو پھر عبوری ضمانت مل گئی

سائفر انکوائری کالعدم قرار دینے دی درخواست پر رجسٹرار آفس اسلام آباد ہائی کورٹ نے اعتراضات لگا دیئے

عمران خان کے وکیل خواجہ حارث کا کہنا تھا کہ وہ مصروفیت کے باعث اپنی فیملی کے ساتھ بھی وقت نہیں گزار پا رہے۔

خواجہ حارث نے کہا کہ میرا بیٹا 23 تاریخ کو آیا تھا اور میں ابھی تک اس سے نہیں ملا۔

جج محمد بشیر نے ریمارکس دیے کہ ضمانت پر حتمی دلائل کے لیے جمعہ کا دن ہوسکتا ہے۔

نیب کے ڈپٹی پراسیکیوٹر سردار مظفر نے شکایت کی کہ ہر سماعت پر نئی تاریخ دے دی جاتی ہے۔

عبوری ضمانت میں توسیع کے بعد نیب نے عمران خان کا دوران حراست ضبط کیا گیا موبائل فون بھی واپس کر دیا۔

قبل ازیں عدالت نے پی ٹی آئی سربراہ اور ان کی اہلیہ کے عدالت پہنچنے تک سماعت کچھ دیر کے لیے ملتوی کردی۔

نیب کے ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل نے عدالت کو بتایا کہ عبوری ضمانت پر حتمی دلائل آج ہونے تھے۔

پراسیکیوٹر افضل قریشی نے عدالت میں کہا کہ جب تک پی ٹی آئی چیئرمین نہیں آتے، عدالت ہمیں چائے پلائے۔

’’ہم آپ کو چائے پیش کر سکتے ہیں،‘‘ جج نے کہا جس پر کمرہ عدالت قہقہوں سے گونج اٹھا۔

متعلقہ تحاریر