نگراں وزیراعلیٰ بلوچستان: جے یو آئی نے انجینئر عثمان بادینی کا نام تجویز کردیا
بلوچستان عوام پارٹی کے کئی رہنما بھی اس عہدے کے امیدوار کے طور پر سامنے آگئے جس کے نتیجے میں اہم عہدے کےلیے نئی بحث چھڑ گئی ہے۔
جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) نے نگراں وزیراعلیٰ بلوچستان کے لیے سابق رکن قومی اسمبلی انجینئر عثمان بادینی کا نام امیدوار کے طور پر پیش کردیا ہے۔
ذرائع کے مطابق حکومت اور اپوزیشن نے باضابطہ طور پر نگراں وزیراعلیٰ کے عہدے کے لیے کوئی نام تجویز نہیں کیا۔ تاہم بلوچستان میں دونوں فریقوں نے نگراں صوبائی حکومت کے قیام کے لیے اپنی مشاورت تیز کر دی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ جے یو آئی کی جانب سے انجینئر عثمان بادینی کو نگراں وزیراعلیٰ بنانے کی تجویز کو بی این پی مینگل کی حمایت حاصل ہوگئی۔
یہ بھی پڑھیے
نگراں وزیراعلیٰ بلوچستان کیلئے 3 ناموں پر غور، 2 نے معذرت کرلی، ذرائع
بلوچستان کے بلدیاتی انتخابات کا دوسرا مرحلہ: ای سی پی نے فول پروف سیکورٹی کا مطالبہ کردیا
دوسری جانب ذرائع نے یہ بھی انکشاف کیا ہے کہ بلوچستان عوامی پارٹی (بی اے پی) کو انجینئر عثمان بادینی کی نامزدگی پر تحفظات ہیں۔ بی اے پی کے کئی رہنما بھی اس اہم عہدے کے لیے امیدوار ہیں، جس کی وجہ سے انتخاب پر اندرونی بحث چھڑ گئی ہے۔
نجی ٹی وی چینل سے گفتگو کرتے سابق رکن قومی اسمبلی انجینئر عثمان بادینی نے اس بات کی تصدیق کی کہ جے یو آئی نے اس عہدے کے لیے ان کا نام تجویز کیا ہے۔ انہوں نے پارٹی کے ان پر اعتماد کا شکریہ ادا کیا۔
واضح رہے کہ انجینئر عثمان بادینی اس سے قبل گزشتہ حکومت میں جے یو آئی کے ٹکٹ پر رکن قومی اسمبلی رہ چکے ہیں۔
انجینئر عثمان بادینی کے ساتھ ساتھ کئی اور نام بھی سیاسی حلقوں میں بلوچستان کے عبوری وزیراعلیٰ کے ممکنہ دعویدار کے طور پر گردش کر رہے ہیں۔ کچھ قابل ذکر شخصیات میں بی اے پی کی سینیٹر کاہدہ بابر، سابق بیوروکریٹ شبیر مینگل اور کان کن احمد بادینی شامل ہیں۔
تمام پارٹیوں کے درمیان غور و خوض جاری ہے، نگراں وزیراعلیٰ بلوچستان کے حوالے سے حتمی فیصلہ ہونا باقی ہے۔









