عازمین حج کو 185,000 روپے تک واپس کیے جائیں گے، قائمہ کمیٹی مذہبی امور
این اے باڈی کے مطابق مدینہ میں مرکز سے دور رہنے والوں کو 12000 روپے واپس ملیں گے، اور جنہوں نے منیٰ میں ٹرین سے سفر نہیں کیا انہیں 21000 روپے ملیں گے۔
بدھ کے روز قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے مذہبی امور اور بین المذاہب ہم آہنگی کو بتایا گیا کہ وزارت مذہبی امور سرکاری اسکیم کے تحت حج کرنے والے ہر حاجی کو 185,000 روپے تک کی رقم واپس کرے گی۔
کمیٹی کا اجلاس پارلیمنٹ ہاؤس میں سید عمران احمد شاہ کی صدارت میں ہوا جس میں حج انتظامات کو سراہا۔
کمیٹی کو بتایا گیا کہ ریگولر اسکیم کے تحت حج کرنے والے ہر عازمین سے 1,175,000 روپے وصول کیے گئے اور سعودی عرب روانگی سے قبل 55,000 روپے واپس کر دیئے گئے تھے۔
یہ بھی پڑھیے
پی ٹی آئی رہنما افتخار درانی کو گرفتار کرلیا، بیٹے کا دعویٰ
نگراں وزیراعظم کا معاملہ: شہباز شریف کی آصف زرداری اور نواز شریف سے مشاورت
کمیٹی کو مزید بتایا گیا کہ ہارڈ شپ کوٹہ کے تحت حج کرنے والے عازمین سے 1,120,000 روپے جمع کرانے کی درخواست کی گئی تھی۔
وزارت نے اب حاجیوں کے مخصوص گروپوں کو رقم واپس کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
جو لوگ مدینہ کے مرکز میں مقیم نہیں ہیں ان کو فی کس 12 ہزار روپے ملیں گے اور جن لوگوں نے منیٰ میں ٹرین سے سفر نہیں کیا انہیں انہیں 21 ہزار روپے فی کس دیئے جائیں گے۔
کمیٹی کا یہ بھی بتایا گیا کہ تمام عازمین حج کو 97,000 روپے واپس کیے جائیں گے۔
اجلاس میں ایم این ایز چوہدری فقیر احمد، شہناز سلیم ملک، پیر سید فضل علی شاہ جیلانی، شگفتہ جمانی، محمد انور اور شاہدہ اختر علی اور خصوصی دعوت پر (ویڈیو لنک کے ذریعے) ڈاکٹر رمیش کمار وانکوانی نے شرکت کی۔
اجلاس میں سیکرٹری اور جوائنٹ سیکرٹری (حج) سمیت وزارت مذہبی امور اور بین المذاہب ہم آہنگی کے سینئر افسران بھی موجود تھے۔
کمیٹی نے امید ظاہر کی کہ مثبت طرز عمل اور کوششیں مستقبل میں بھی حجاج کرام کو فائدہ پہنچاتی رہیں گی۔









