امن و امان کو یقینی بنانے کے لیے پی ٹی آئی کارکنان کے خلاف کریک ڈاؤن شروع

پنجاب کی نگراں حکومت کے عہدے داروں کا کہنا ہے کہ 'پی ٹی آئی کے حامیوں کی جانب سے کسی بھی قسم کے احتجاج یا عوامی مظاہرے سے سختی سے اور فوری نمٹا جائے گا'

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان کی توشہ خانہ فوجداری کیس میں گرفتاری کے بعد پنجاب میں حکام نے صوبے میں امن و امان کی بحالی کو یقینی بنانے کے لیے پی ٹی آئی کے کارکنوں اور رہنماؤں کے خلاف جامع کریک ڈاؤن شروع کر دیا ہے۔

پنجاب پولیس نے لاہور سمیت دیگر شہروں کے مختلف علاقوں میں پی ٹی آئی کے کارکنوں اور رہنماؤں کی رہائش گاہوں پر چھاپے مارنے شروع کردیئے ہیں۔

آپریشن پولیس کی سربراہی میں کیے جانے والے کریک ڈاؤن کا مقصد سڑکوں پر امن و امان پر کنٹرول قائم کرنا اور موجودہ سیاسی صورتحال کی وجہ سے پیدا ہونے والے کسی بھی ناخوشگوار واقعات کو روکنا ہے۔

یہ بھی پڑھیے 

9 مئی ہنگامہ آرائی کیس: چیئرمین پی ٹی آئی کی بہنوں کا جے آئی ٹی کے سامنے بیان ریکارڈ

محکمہ پولیس کے ذرائع نے بتایا کہ انویسٹی گیشن اور سی آئی اے پولیس یونٹس پی ٹی آئی کے کارکنوں اور پارٹی کے بااثر ارکان کے گھروں پر چھاپے مارنے میں سرگرم عمل ہیں۔

موجودہ صورتحال کے پیش نظر پولیس حکام کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی کے حامیوں کی جانب سے کسی بھی قسم کے احتجاج یا عوامی مظاہرے سے فوری طور پر نمٹا جائے گا اور ملوث افراد کو فوری طور پر حراست میں لے لیا جائے گا۔

پنجاب پولیس کے حکام نے اس مرحلے کو آسان بنانے کے لیے لاہور پولیس کو پی ٹی آئی کے کارکنوں اور رہنماؤں کی فہرستیں فراہم کردی ہیں

زمان پارک کے باہر سے 4 کارکن گرفتار

دوسری جانب لاہور میں سابق وزیر اعظم کی زمان پارک رہائش گاہ کے باہر احتجاج کرنے والے پی ٹی آئی کے 4 کارکنوں کو پولیس نے گرفتار کر لیا ہے۔

متعلقہ تحاریر